ترال//ترال کے مضافات میں سوموار دیررات مشتبہ جنگجوئوں کے حملے میں مارے گئے ایس پی او،اوراُس کی اہلیہ کے بعد اُن کی بیٹی بھی اسپتال میںزخموں کی تاب نہ لاکر چل بسی۔اس طرح اس حملے میں ایک ہی کنبے کے مرنے والے افرادکی تعدادتین ہوگئی ہے۔جنوبی کشمیر کے اونتی پورہ تحصیل سے چند کلو میٹر دور ہاری پاریگام ترال میں اتوار کی رات 10:45منٹ پر نا معلوم بندوق برداروں نے جموں و کشمیر پولیس میں بطور ایس پی او کام کرنے والے ایک اہلکار کے گھر میں داخل ہو کر کنبے کے تین افراد کو گولیاں ماردیں ۔پولیس کے مطابق اس حملے میں خود ایس پی او موقعے پر ہی ہلاک ہوا ،جبکہ اُس کی اہلیہ اننت ناگ کے ہسپتال میں داخل کئے جانے کے بعد دم توڑ بیٹھی۔ اس دوران مرحومین کی 25سالہ بیٹی پیرکی صبح زخموں کی تاب نہ لا کر انتقال کر گئیں ۔اس واقعے کے بعد پورے جنوبی کشمیر میں خوف دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے ۔جنوبی کشمیر کے ہاری پاری پاریگام علاقے میں اتوار کی رات10:45پر نا معلوم بندوق بردارمحکمہ پولیس میں بطور ایس پی کام کرنے والے فیاض احمد کے گھر میںداخل ہوئے اورفیاض پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مذکورہ پولیس اہلکار اوراسکی اہلیہ 48سالہ راجہ بیگم اور25سالہ بیٹی رافعہ شدید زخمی ہوئی جنہیں فوری طور ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں فیاض احمد کوڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا جبکہ اُس کی اہلیہ جس کی حالت نازک تھی ،بھی ہسپتال میں چند گھنٹوں زیرعلاج رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھی۔فیاض احمدکی بیٹی بھی کئی گھنٹوں تک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعدسوموار صبح دم توڑ بیٹھی ۔اس طرح سے اس حملے میں ایک ہی کنبے کے3 افراد ہلاک ہوئے ۔معلوم ہوا ہے کہ مہلوک ایس پی او پولیس لائنز پلوامہ میں تعینات تھا جہاں وہ ترکھان کے طور کام انجام دے رہا تھا ۔ مرحوم کا اب ایک ہی بیٹابچ گیا ہے جو فوج میں کام کر رہا ہے اور کشمیر میں ہی ایک فوجی یونٹ کے ساتھ تعینات ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملے کے وقت ان تین افراد کے علاوہ ان کی بہو ایک الگ کمرے میں اپنے بچے کے ساتھ موجود تھی جو بچ نکلی ۔مرحوم فیاض احمد کے برادر نے بتایا وہ گزشتہ رات گھر میں تھے جس دوران فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے بتایا فائرنگ کے بعد میں باہر نکلا، تو یہاں میرے برادر کے گھر میں زور زور سے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔انہوں نے بتایا جب میں مکان کے اندر داخل ہوا تو یہاں یہ تینوں خون میں لت پت پڑے تھے جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ، جہاں ایک ایک کر کے تینوں فوت ہوئے ۔واقعے کے بعد پورے علاقے میں زبردست خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی اور لوگ رات بھر گھروں میں سہم کر رہ گئے ،جبکہ ان ہلاکتوں پر لوگوں نے بڑے پیمانے پر افسوس کا اظہارکیا ۔پیر کی صبح پورا گائوں ماتم کدے میں تبدیل ہوا تھا جہاں ہر آنکھ نم تھی۔تینوں متوفین کی آخری رسومات میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی اور انہیں آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔
جیش کے 2جنگجو ذمہ دار: آئی جی
سرینگر//جیش محمد تنظیم کے دوجنگجو جن میں ایک بیرونی ملک کا ہے ،ترال میں ایس پی او،اُس کی اہلیہ اور بیٹی کی ہلاکت میں ملوث ہیں۔کشمیر صوبے کے پولیس سربراہ وجے کمار نے کہا کہ فیاض احمد کو اُس کی اہلیہ اور بیٹی نے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی جنگجوئوں کی گولیوں کا شکار ہوئیں۔کمار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس علاقے میں جنگجوئوں کی نقل وحمل ہے ۔دوجنگجوکل رات کو آئے ۔ان میں سے ایک بیرونی ملک کا دکھائی دیتا ہے۔انسپکٹر جنرل جو مہلوک ایس پی او کے گھر تعزیت پرسی کیلئے گئے تھے ،نے مرحوم کے روح کے ابدی سکون کی دعا کی ۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوئوں نے بے تحاشہ ہمارے ایس پی او پر گولیاں چلائیں ۔اُس کی بیوی اور بیٹی نے اُسے بچانے کی کوشش کی لیکن وہ بھی گولیوں کا شکار ہوئیں ۔انہیں اسپتال لیجایاگیا جہاں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ وجے کمار نے کہا کہ ایس پی او،اس کی بیوی اور بیٹی کو موت نے انہیں سخت دکھ پہنچایااوریقین دلایا کہ اس حملہ میں ملوث جنگجوئوں کوکیفرکردار تک پہنچایاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی ان کی شناخت کریں گے اور انہیں کیفرکردار پہنچائیں گے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس حملے کے پیچھے جنگجو تنظیم کی پہچان ہوگئی ہے ،توانہوں نے کہا یقینی طور ،علاقے میں جیش محمد کی نقل وحرکت ہے ،اس لئے اس کے پیچھے جیش کا ہی ہاتھ ہوگا۔