سرینگر//پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو جموں کشمیرانتظامیہ پر جانبدارانہ انداز میں کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ شوپیان کے تحصیلدار کی طرف سے 25 اگست کو جاری کردہ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے ، انہوں نے کہا،’’ ایک برس سے زائدغیر قانونی حراست سے رہا ہونے کے بعد میری پارٹی کارکنوں اور لیڈروں تک پہنچنے کی متعدد کوششوں کے باوجود ، بار بار ریاستی انتظامیہ نے مختلف بہانوں سے ایسا کرنے سے روک دیا ،جبکہ مجھے بطور پارٹی صدر اپنی ذمہ داریاں نبھانے نہیں دیا جا رہا ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جس پارٹی کارکنان کے اجلاس کی آپ بات کر رہے ہیں ،وہ رواں مہینے کی 25 تاریخ کو منعقد کیا گیا تھا۔ اس پر انتظامیہ نے اعتراض کیوں کیا ہے وہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ یہ نہ صرف حیران کن بلکہ عجیب بات بھی ہے کیونکہ اسی روز جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے ایک تقریب کی صدارت کی جہاں 100سے زائد افراد نے شرکت کی تھی اور وہ بھی (کھلے میدان کے بر عکس) ایک عمارت میں، عالمی وبا کورونا وائرس جانبدار نہیں ہے لیکن دْکھ ہو رہا ہے کہ انتظامیہ (جانبدار) ہے۔‘‘واضح رہے کہ شوپیاں کے تحصیلدار کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو بھیجی گئی ’’وجہ بتائو‘‘ نوٹس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے عالمی وبا ء کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے وضع کیے گئے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی ہے۔وجہ بتائو نوٹس کہاگیا ہے کہ معیاری عملیاتی طریقہ کارکی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں محبوبہ مفتی کے خلاف آفات سماویٰ قانون مجریہ2005 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے، اس سلسلے میں ان سے وضاحت طلب کی گئی تھی۔