رامحال (ہندوارہ )// تارت پورہ رامحال میں ایک گھر میں ہوئے پراسرار دھماکے میں ہلاک ہوئی طالبہ کی آخری رسومات جمعہ کو اداکی گئیں جبکہ اس دوران اُس کے گھر کا کوئی فرد جنازے میں شامل نہیں تھا کیوں کہ وہ سبھی اسپتال میں موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ تارت پورہ رامحال میں جمعرات کی شام دیر گئے غلام محمد وانی ولد عبد الرزاق وانی کے گھر میں ایک پر اسرار دھماکہ ہوا جس میں گھر کے چھ افراد شدید طور زخمی ہوئے تاہم غلام محمد کی 19سالہ بیٹی شبنم جان زخمو ں کی تاب نالاکر دم تو ڑ بیٹھی جبکہ گھر کے دیگر افرادجن میں اس کے والدین ،دادی ،بہن اور خالہ شامل ہیں ،کو ہندوارہ اسپتال سے سرینگر منتقل کیا گیا۔19سالہ طالبہ شبنم کی لاش کو جب اس کے آ بائی گائو ں تارت پورہ پہنچایا گیا تو وہا ں پر کہرام مچ گیا اور رات بھر اس کی نعش کو گھر میں رکھا گیا ۔جمعہ کی صبح کو علاقہ کے ہزارو ں لوگ تارت پورہ پہنچ گئے اور 19سالہ طالبہ شبنم کے جنازے میں شرکت کی ۔مقامی لوگو ں نے شبنم کے افراد خانہ کے بغیر اُسے سپرد خاک کیا جس دوران ہر آنکھ اشکبار تھی ۔