یو این آئی
نیویارک/لزبن/فٹ بال کی دنیا کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کی کہانی محض جیت اور ہار کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے جنون کی داستان ہے جو شکست کے اندھیروں سے ٹکرا کر پھر سے روشنی کی تلاش میں نکل پڑتا ہے ۔ الثمامہ اسٹیڈیم دوحہ کی فلڈ لائٹس کے نیچے جب مراکش کی ٹیم جشن منا رہی تھی، تب فٹ بال کاایٹلس(جس نے سالہا سال پرتگال کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا) اکیلا سرنگ کی تاریکی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ وہ محض ایک شکست نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے انسان کا دکھ تھا جس کا زندگی بھر کا سب سے بڑا خواب اس کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل گیا تھا۔ رونالڈو، جو کبھی ‘ناقابلِ تسخیر مشین’ سمجھے جاتے تھے ، اس رات فٹ بال کی تاریخ کا سب سے جذباتی منظر چھوڑ گئے – ان کا ہاتھ سینے پر تھا اور چہرہ آنسوؤں سے تر۔ یہ ایک سپر ہیومن کے انسان بننے کا وہ لمحہ تھا جس نے پوری دنیا کو خاموش کر دیا۔ 2022 کا ورلڈ کپ رونالڈو کے لیے کانٹوں کی سیج ثابت ہوا۔
مانچسٹر یونائیٹڈ سے تلخ جدائی، کلب کی انتظامیہ سے تنازعات اور پھر اپنی ہی قومی ٹیم کے بنچ پر بیٹھ کر نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی جگہ کھیلتے دیکھنا- یہ سب ان کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھا۔ 37 سال کی عمر میں ان کے مسلز وہ پرواز نہیں بھر پا رہے تھے جو کبھی کششِ ثقل کو چیلنج کیا کرتے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق، 2022 کی وہ تاریک سرنگ رونالڈو کا آخری پڑاؤ نہیں تھی۔ آج، جب ورلڈ کپ 2026 کی دستک سنائی دے رہی ہے ، 41 سالہ رونالڈو ایک بار پھر میدانِ عمل میں اترنے کو تیار ہیں۔ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے میدان اب اس ‘بے تاج بادشاہ’ کے منتظر ہیں۔ پانچ ورلڈ کپ میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی اب اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کر کے تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ رونالڈو کی عظمت محض ٹرافیوں میں نہیں، بلکہ ان کی اس ہمت میں ہے جو بار بار گرنے کے باوجود کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتی ہے ۔ تاریخ انہیں اس لیے یاد نہیں رکھے گی کہ انہوں نے ورلڈ کپ جیتا یا نہیں، بلکہ اس لیے یاد رکھے گی کہ انہوں نے آخری لمحے تک دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔ 2026 کا سورج شاید رونالڈو کے لیے وہ تاج لے کر آئے جس کی حسرت قطر کی سرنگ میں آنسو بن کر بہہ گئی تھی، کیونکہ جب تک رونالڈو میدان میں ہیں، معجزے کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے ۔