سمت بھارگو
راجوری//راجوری کے بیلا علاقے میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد ایک مقامی خاندان نے بیلا بس اسٹینڈ منصوبے، مبینہ اراضی تنازع، سیلابی نقصانات اور مختلف سرکاری محکموں کے کردار کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب میں انہیں کروڑوں روپے مالیت کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کی اپیل کی ہے۔خاندان کے مطابق جس اراضی پر بیلا بس اسٹینڈ تعمیر کیا گیا، وہ ان کی آبائی ملکیت ہے اور اس حوالے سے وہ سال 2019 سے ضلع عدالت راجوری اور بعد ازاں جموں و کشمیر ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حالیہ سیلاب کے دوران متنازعہ زمین کا بڑا حصہ بہہ گیا، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔خاندان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ سات برسوں کے دوران انہوں نے عدالتی کارروائیوں اور متعلقہ معاملات پر تقریباً 40 سے 45 لاکھ روپے خرچ کیے، جبکہ متنازعہ اراضی پر قائم تقریباً 20 عارضی تجارتی شیڈز بھی سیلاب میں تباہ ہو گئے، جن پر ان کے مطابق تقریباً 10 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔
خاندان کا الزام ہے کہ بیلا بس اسٹینڈ کی تعمیر کے دوران انہیں دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر متعلقہ حکام نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔متاثرہ خاندان نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مذکورہ علاقہ سیلاب کے خطرے سے دوچار یا مبینہ طور پر ریڈ زون میں شامل تھا تو وہاں تقریباً 9 کروڑ روپے کی لاگت سے بس اسٹینڈ، تجارتی عمارتیں اور متعدد دکانیں تعمیر کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اراضی کے ریکارڈ، تعمیراتی منظوریوں، این او سی، اور ریونیو محکمہ، میونسپل کونسل، محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کی مکمل جانچ کرائی جائے۔خاندان نے سال 2018 میں چلائی گئی انسدادِ تجاوزات مہم کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوال اٹھایا کہ اگر اس وقت مذکورہ اراضی کو سرکاری زمین قرار دے کر کارروائی کی گئی تھی تو بعد میں اسی مقام پر مستقل تعمیرات کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی۔خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ بیلا کالونی، بیلا بس اسٹینڈ اور درہالی پل سے مراد پور اور مشائرہ پل تک درہالی ندی کے کنارے قائم تمام تعمیرات کی سی بی آئی (CBI) یا انسدادِ بدعنوانی بیورو (ACB) کے ذریعے وقت مقررہ کے اندر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ تعمیرات کی منظوری اور دیگر سرکاری کارروائیوں میں کسی قسم کی بے ضابطگی یا قواعد کی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔خاندان کے رکن امت شرما ولد بھولا رام، جو خود کو صحافی بتاتے ہیں، نے بھی دعویٰ کیا کہ اراضی تنازع کے دوران انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانا ہے تاکہ اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔