یروشلم //اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں لیلتہ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سینکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں گراتے ہوئے آگئے بڑھے۔جس کے نتیجے میں پیدل اور گھوڑوں پر سوار اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر بدترین تشدد کیا اور انہیں پسپا کرنے کے لیے اسٹن دستی بم اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس واقعے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ 14 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس کے ایک رہنما موسا ابو مرزوق نے ٹوئٹر پر کہا کہ 'ہم الاقصیٰ کے لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو صیہونیوں کے تکبر کی مخالفت کرتے ہیں اور ہم فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔دوسری جانب اسرائیل نے کہا کہ وہ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں گزشتہ رات مسجد اقصیٰ میں شدید جھڑپوں کے بعد مزید محاذ آرائی کے پیش نظر سیکیورٹی بڑھا رہا ہے۔اس سے قبل جمعے کو مشرقی بیت المقدس میں رات کے وقت ہونے والی جھڑپ میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی صحت ورکرز نے بتایا تھا کہ کم از کم 205 فلسطینی اور 17 اسرائیلی پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ایک طویل عرصے سے جاری قانونی کیس میں متعدد فلسطینی خاندان کو بے دخل کیا گیا ہے۔