اسلام کے معاشی نظام کی اساس ’بیت المال‘پر ہے جس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ معاشرہ کے نادار، معذور، بیوہ، مستحق اور ضرورت مند افراد کی کفالت کرنا ہے۔ بیت المال مسلمانوں کے لئے موجودہ دور کی کوآپریٹیو سوسائٹی یا محکمہ فلاح و بہبود سے بڑھ کر وہ فلاحی ادارہ ہے، جہاں اثر و رسوخ کے بغیر ، مذہب و ملت، جنس ، رنگ و نسل اوع علاقہ جات کے بغیر مستحقین کی مالی امداد کی جاتی ہیں۔ یہ مسلمانوں کی انشورنس کمپنی اور جی پی فنڈ سے بھی بڑھ کر مددگار ادارہ ہے جو مستحقین کی باز آبادکاری کے لئے مؤثر اقدامات کرتا ہے ۔
بیت المال ضرورت مندوں کی ایک امید ہے،بے روزگاروں کے لیے سرمایہ اعانت ہے، معذور و ناتواں، اپاہجوں، بیماروں، یتیموں اور بیواؤں کے لیے ذریعہ معاش ہے، یہ لاوارثوں کا وارث ہے، یہ نکاح کا طاقت نہ رکھنے والوں اور مقروضوں کے لیے ایک غم خوار ادارہ ہے، یہ بے بس و بے سہارا بزرگوں کے لیے احاطہ وقار ہے، یہ معاشرے کے بے سہارا افراد اور بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی کفالت کی ذمہ داری لینے والا ادارہ ہے، جس میں چھاپڑی فروش سے لے کر روزانہ مزدور اور ٹرانسپورٹر سے پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین تک کی مالی امداد کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے اس طرح کا ایک توازن (Balance) برقرار رکھنے والا ایک کامیاب ادارہ ہے۔
یہ ادارہ مالدار مسلمانوں کو صرف اس بات پر متحرک کرتا ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اڑھائی فیصد (% 2.5) زکوٰۃنکال کر اللہ کی راہ میں اپنی زندگی کے لئے بطور پرویڈینٹ فنڈ کا ایک اکاؤنٹ کھول کر اس کے اندر جمع رکھیں اور ایسی تجارت کے شریک کار بننے کا موقع دیتا ہے جس میں نقصان ہونے کا کبھی اندیشہ نہیں ہوتا بلکہ ہر حال میں منافع ہی منافع ہوتا ہے۔ یہ وقت کے مالدار کو دوسروں کی مدد کرنے اور نادار ہو جانے پر دوسرے سے مددلینے کا منظم طریقہ فراہم کرتا ہے۔ یہ مفلس ہو جانے پر کسی بھی قسم کی غم و پریشانی میں مبتلا ہونے سے قبل ہی سدباب پیدا کرتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا دائرہ یہ تھا کہ زکوٰۃ، عشر، خراج اور جزیہ وغیرہ کی رقوم آنحضرت صلعم کے پاس جمع ہوتی تھیں اور آپؐ ان سے ضرورت مندوں، ناداروں اور بے سہارا لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مجاہدین اور بیت المال کے لیے کام کرنے والوں کو بھی وظیفے دیتے تھے۔ قرآن کریم نے اس سلسلہ میں اصولی ہدایات اور طریق کار کا ذکر کیا ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم چونکہ خود بحیثیت ’’رسول اللہ‘‘ اختیارات رکھتے تھے اس لیے آپؐ کا فیصلہ اور عمل ہی حتمی ہوتا تھا اور بیت المال کے لیے تفصیلی قواعد و ضوابط طے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ بیت المال کو باقاعدہ ایک ادارہ کی شکل دینے اور اس کے قواعد و ضوابط طے کرنے کی نوبت حضرت عمرؓ کے دور میں آئی جبکہ حضرت ابوبکرؓکا دور خلافت اس سلسلہ میں ایک ارتقائی مرحلہ تھا۔
گزشتہ سال کے دسمبر سے ہی کورونا کی مہا ماری سے جہاں جانی و مالی نقصان سے دوچار ہونا پڑا وہی اقتصادی بحران کی صورتحال پیدا ہوکر سرکاری روزگار والوں کے بغیر سبھی زمرے کے افراد کو بری طرح متاثر ہونا پڑا ہیں۔ ہر محلے کے اندر اس وقت بیس سے تیس گھر ایسے نظر آرہے ہیں جہاں مالی امداد کی فوری ضرورت محسوس ہو رہی ہے لیکن اکثر و بیشتر علاقوں میں اس طرح کی ناگہانی آفت سے نپٹنے اور ایسے افراد کی مالی امداد کرنے کا کوئی مؤثر اقدام نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر کسی قوم اور ملک پر ایسی ناگہانی صورت آن پڑتی ہے تو اپنی ناگزیر ضروریات سے جو فاضل بچ جائے وہ سب ایسی صورت میں قربان کر دینا سب سے بہترین عمل قراردیا گیا ہے۔
اصحاب خیر پہلے یہ مان لیں کہ ہمارے رب نے ہم پر کتنابے انتہا احسان کیا ہے کہ ہمیں دینے والا ہی بنایا ہے۔ اپنے سوا کسی کا محتاج نہیں بنایا، یہ مال و دولت، یہ زر و زمین، یہ گاڑی و بنگلے، یہ بیوی و بچے، سب کچھ تو اللہ تعالیٰ کا ہی دیا ہوا ہے۔ذرا سوچو، اللہ بچائے اگر آپ کو لینے والا بنایا ہوتا، دنیا کے لوگوں کا محتاج بنایا ہوتا، دانے دانے کے لئے محتاج بنایا ہوتا، تنگ دست بنایا ہوتا، زندگی کٹھن بنائی ہوتی تو آپ کیا کرتے؟ کس کا در ہے جو آپ کو بے نیاز کر دیتا ؟ واقعی میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہمارا معاون و مددگار نہیں۔
زکوٰۃ اسلام کے اقتصادی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔جس کے حکم کے پیچھے یہ فلسفہ کارفرما ہے کہ اسلامی حکومت پورے معاشرے کو ایسا اقتصادی و معاشی نظام، طرز زندگی اور سماجی ڈھانچہ مہیا کرے جس سے حرام کمائی کے راستے مسدود ہوجائیں اور رزق حلال کے دروازے کھلتے چلے جائیں۔ اس لئے شریعت مطہرہ نے ہر صاحب مال پر یہ فریضہ عائد کیا کہ وہ سالانہ بنیادوں پر اپنے جمع شدہ اموال پر اڑھائی فی صد کے حساب سے مال نکال کر اجتماعی طور پر بیت المال میں جمع کراوئے تاکہ وہ اسے معاشرے کے نادہندہ اور محتاج افراد کی ضروریات پوری کرنے پرصرف کر سکیں۔ اس شرح سے اگر سب اہل ثروت اور متمول افراد اپنے سال بھر کے زر و مال سے اپنا اپنا حصہ نکالتے رہیں تو اس طرح نہ صرف ان کی کمائی حلال اور ان کا مال و متاع آلائشوں سے پاک و صاف ہوجائے گا بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی معاشی ناہمواریاں بھی از خود دور ہوتی رہیں گی۔ اگر یہ سوچ افراد معاشرہ کے قلوب و اذہان میں جاگزیں ہوجائے تو پوری زندگی میں حلال و حرام کی حدیں متعین ہوجائیں گی اور اجتماعی حیات کے احوال و معاملات سنور جائیں گے ۔
اے نادان انسان ! اس طرح خرچ کرنے سے رب پر کوئی احسان ہے نہ معاشرے پر آپ کا کوئی احسان ہے۔ ہماری اڑھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی سے صرف ایک ہدایت (guideline) ملتی ہے کہ باقی بچی ہوئی ساڑھے ستانوے فیصد (% 97.5) مال و دولت کیسے خرچ کی جائے۔ جب ہم زکٰوۃکا اڑھائی فیصد یعنی فرض والا حصہ پنجگانہ فرض نمازوں کی طرح کھلے عام ادا کریں گے، تو دوسرے مالدار لوگ بھی متحرک ہو سکتے ہیں۔ اور نفل نمازوں کی طرح باقی بچا ہوا مال و دولت کا حصہ پوشیدہ طور پر مستحقین پر دل کھول کر خرچ کرنا چاہیے، اپنا معمول بنا کر انسانیت کی بقا کے لیے مشغول عمل رہیں، تو اللہ تعالیٰ کی معرفت، قربت، محبت، عظمت اور نصرت شامل حال ہوگی ۔
انسان کے پاس اپنے حال و مستقبل کی ذاتی اور کاروباری ضرورتوں کے علاوہ جو کچھ موجود ہے وہ معاشرے کا حق ہے جس سے ایک فلاحی معاشرہ وجود پاتا ہے۔ اور انفاق کے تمام مطالبات اسی سے متعلق ہیں۔ اسلام میں فاضل، زائد یا زیادہ کے جیسی اپنی ذاتی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ،کو خرچ کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے۔ یعنی جو ضرورت اور کفایت سے بڑھ کر ہو، وہ تمام کا تمام راہِ خدا میں خرچ ہونا چاہیے مگر آسانی سے، نہ خود پریشانی کا شکار ہو اور نہ کسی کی حق تلفی ہو جائے۔
رابطہ: ہاری پاری گام ترال کشمیر
فون نمبر۔ 9858109109