بڈگام//بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آرہی بتدریح بہتری اور مٹھاس براعظم ایشیا خاص کر جموں وکشمیر میں قیام امن کے لئے ایک نیک شگون ہے۔ اس بات کااظہار پیپلزڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم محمدیاسین نے کیا ہے۔ انہوں نے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان رشتوں کو مزید خوشگوار بنانے کے لئے باہمی اعتماد سازی کے تمام وسائل کو بروے کار لانے کی ضرورت پر زور دیا۔ہردپنزو خانصاحب میں ایک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رسہ کشی اور دشمنی کا سب سے زیادہ اور براہ راست خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔پی ڈی ایف چیرمین نے کہا کہ دونوں ممالک کو مسلہ کشمیر سمیت اپنے سارے حل طلب مسائل باہمی گفت وشنید اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہیے تاکہ آپسی تعلقات میں حائل ساری رنجشوں اور دوریوں کو دور کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہونے سے دونوں ممالک اپنے بھاری دفاعی اخراجات کو اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود اور ترقی پر صرف کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلہ کشمیر دو ہمسایہ ممالک کے درمیان دشمنی اور رسہ کشی کی اصلی جڑ ہے جس کو اس مسلے کے حقیقی تعلق داروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے باہمی طور پر امن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔حکیم یاسین نے دور دراز علاقوں کو ترقیاتی و فلاحی شعبوں میں مبینہ طور نظر انداز کرنے پر جموں وکشمیر انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام لگایا کہ پچھلے کیا برسوں سے سیاحتی مقام دودھ پتھری کی اجتماعی ترقی کے لئے معقول رقومات مختص نہیں رکھے گئے۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ نالہ سکھناگ اور نالہ شالی گنگا پر دو منی پن پاور پروجیکٹوں پر فوری طور کام شروع کرانے کے لئے ذاتی طور مداخلت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ پاور پروجیکٹوں کے لئے DPR آج سے دس سال قبل منظور کیے جانے کے باوجود بھی ان کی تعمیر ابھی تک تشنہ طلب ہے۔ انہوں نے توسہ میدان دودھ پتھری یوسمرگ ٹورسٹ سرکٹ پر فوری طور کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ٹورسٹ سرکٹ علاقے کی وسیع سیاحتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے اہمیت کا حامل ہے اور اس کے طفیل مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے وسائل دستیاب ہوںگے۔