لداخ کے یخ بستہ ریگزاروں اور برف پوش کوہساروں سے پچھلے کچھ عرصے سے تواتر سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں۔ اس سرحدی علاقہ میں بھارتی اور چینی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔چینی فوج کی وادی گلوان کے کافی اندر داخل ہونے پر چھڑپیں ہوئیں اور ۱۵ جون کی درمیانی شب دونوں ملکوں کی فوجوں کی آپسی تصادم آرائی میں ۲۰ ہندوستانی فوجی مارے گئے ۔اس واقعے سے دونوں طرف کے عوام میں تلخی کا گراف بہت بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ملکی عوام میں چین کے خلاف غم و غصہ اس قدر دکھائی دے رہا ہے کہ انہوں نے چینی اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوگئے ہیں جن میں کئی جگہوں پر لوگ چینی پروڈکٹس کو توڑ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے معاملہ پر تبادلہ خیال کے لیے کل جماعتی میٹنگ طلب کی تاہم وزیر اعظم ہند نے اس میٹنگ میں حیران کن بیان دیا کہ’’نہ کوئی ہمارے علاقے میں داخل ہوا نہ ہی کسی پوسٹ پر قبضہ ہوا‘‘۔اگلے رو وزیراعظم دفتر سے اس ضمن میں تردیدی بیان جاری کرتے ہوئے کہاگیا کہ وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیاگیا ہے ۔
بہر حال حقیقت جو بھی ہو ،لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس وقت لداخ میں کشیدگی جاری ہے اور بھلے ہی اب کور کمانڈرس کی سطح پر امن قائم رکھنے پر اتفاق ہوا ہے تاہم جو بیانات اوراشارات دونوں جانب سے مل رہے ہیں،وہ فی الوقت کچھ زیادہ اطمینان بخش نہیں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان تنائو کوئی آج کا مسئلہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً آپسی چپقلشیں چلتی رہی ہیں جو بعض اوقات خطرناک رخ اختیار کرتیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان ۱۹۶۲ کی جنگ اس کی سامنے کی مثال ہے۔اس کے علاوہ۲۰۱۷ میں ڈوکلام کے علاقے میں ہمارے اور چینی فوجیوں کے درمیان مکے بازی، ہاتھا پائی اور ایک دوسرے سے سامان چھیننے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور کئی دنوں بعد حالات معمول پر آئے تھے۔ تبصرہ نگار حالیہ کشیدگی کی مختلف وجوہات بیان کررہے ہیں۔پہلی وجہ سٹریٹجک بتائی جارہی ہے۔ یہ دو ایسے پڑوسی ہیں جن کی فوجوں کی تعداد دنیا میں پہلے اور دوسرے نمبر پر بتائی جاتی ہے اور جن کے درمیان اختلاف اور تنازعات کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ اس بار بھی وہی علاقہ تنازعے کا مرکز ہے جہاں 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے اور چین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اس نے بازی ماری تھی۔گذشتہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تیزی سے کیے جانے والے تعمیراتی کام کو بھی تنازعے کی بڑی وجہ بتایا جاتا ہے۔ دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کہتے ہیں ’’سڑکوں کی تعمیر ایک بڑی وجہ ہے۔ عام طور پر جس وادی میں امن و امان رہتا ہے آج وہی گلوان وادی ہاٹ سپاٹ بن چکی ہے کیوں کہ یہاں پر ایل اے سی ہے جس کے پاس انڈیا نے شیوک ندی سے دولت بیگ اولڈی ( ڈی بی او) تک ایک سڑک تعمیر کرلی ہے۔ پورے لداخ کے ایل اے سی کے علاقے میں یہ سب سے مشکل علاقہ ہے‘‘۔انڈین فوج کے سابق سربراہ جنرل وی پی ملک کا خیال ہے کہ’ ’چین کی بے چینی کی ایک اور وجہ ہے۔ چینی فوج کا ایک طریقہ ہے وہ رینگتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ دھیرے دھیرے اپنی کارروائیوں کے ذریعے متنازعہ علاقوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقے میں شامل کر لیتے ہیں۔ لیکن اب اس کے پاس اس کے متبادل کم ہوتے جارہے ہیں کیونکہ انڈین سرحدوں پر ترقی ہورہی ہے اور انڈیا کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے‘‘۔اخبار ہندوستان ٹائمز کے دفاعی امور کے نامہ نگار راہل سنگھ بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ‘ ’گزشتہ پانچ برسوں میں انڈین سرحدوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے’ ’ماضی میں دونوں کے فوجیوں کے درمیان چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئی ہیں۔ پہلے بھی 2013 اور 2014 میں ڈوکلام کے علاقے چومار میں ایسے واقعات پیش آئے ہیں لیکن اس بار کارروائی کا دائرہ وسیع ہوا ہے‘‘۔سابق میجر جنرل اشوک مہتا کا کہنا ہے ایل اے سی پر چین کی تیز ہوتی ہوئی کارروائیوں کی بڑی وجہ ’’پل اور ہوائی پٹیوں کی تعمیر ہے جس کی وجہ سے انڈیا کے گشت میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ’ ’یہ معمول کی بات نہیں ہے۔ حالاں کہ انڈیا کی فوج کے سربراہ نے کہا تھا کہ اس طرح کی کاروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور شمال مشرقی ریاست سکم کے واقعے کا تعلق گلوان وادی میں ہونے والے واقعے سے نہیں ہے۔ لیکن میرے حساب سے یہ سارے واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جب انڈیا نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا تو چین اس بات سے بالکل خوش نہیں تھا‘‘۔تجزیہ نگار ایک اور وجہ بتاتے ہیں کہ دنیا کی ساری معیشتیں گزشتہ پانچ ماہ سے کورونا وائرس کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔چین، امریکہ، یورپ، مشرق وسطیٰ سمیت انڈیا اور جنوبی اشیا کے ممالک کی ترقی کی شرح میں گراوٹ درج ہوئی بل کہ بے روزگاری اور بند ہوتے کاروباروں کو زندہ رکھنے کے لیے حکومتوں کو لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔بیش تر لوگ اس کا موازنہ ۱۹۳۰ کے ’دی گریٹ ڈپریشن‘ سے بھی کر رہے ہیں۔ اس سب کے درمیان ۱۷ اپریل کو بھارتی حکومت نے ایک چونکا دینے والا فیصلہ کیا۔حکومت نے ان پڑوسی ممالک کے لیے ایف ڈی آئی یعنی بیرونی سرمایہ کاری کے قوانین میں تبدیلی کر دی جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔نئے قوانین کے تحت کسی بھی بھارتی کمپنی کے ساتھ اشتراک سے پہلے اب حکومت سے اجازت لینا لازمی ہوگیا ہے۔ چوں کہ چین انڈیا میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرتا ہے تو اس نئے قانون سے چین ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔اس فیصلے کی اہم وجوہات میں سے ایک وجہ یہ تھی کہ چین کے مرکزی بینک ’پیپلز بینک آف چائنا‘ نے انڈیا کے سب سے بڑے نجی بینک 'ایچ ڈی ایف سی' کے ایک کروڑ پچھتر لاکھ شئیرز کو خریدا۔ اس سے قبل چین انڈین کمپنیوں میں زبردست سرمایہ کاری کررہا تھا۔عالمی معیشت کے امور کے ماہر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق پروفیسر ایم ایم خان کا خیال ہے کہ ’’فوج اور معیشت وہ دو شعبے ہیں جن میں چین اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کرتا رہا ہے‘‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’’کورونا کے بعد دنیا کے حصص بازاروں میں ہل چل مچی ہوئی ہے اور چین بڑے ممالک کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔ آپ جنوبی ایشیا کو ہی دیکھ لیجیے، سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنا لوجی کی بڑی کمپنیوں پر چین کا قرض یا اس کی سرمایہ کاری مل ہی جائے گی‘‘۔اب اگر بھارت نے اپنی ایف ڈی آئی سے متعلق پالیسی میں تبدیلی کی ہے تو اس بات کے کافی امکان ہیں کہ چین اس سے تھوڑا پریشان تو ہوا ہوگا اور اس کی خارجہ پالیسی بھی متاثر ہوگی۔حال ہی میں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں جس کا انعقاد عالمی ادارہ صحت کرتا ہے، ایک تجویز پیش کی گئی کہ اس معاملے کی تفتیش ہونی چاہیے کہ دنیا بھر کو نقصان پہنچانے والے کورونا وائرس کی شروعات کہاں سے ہوئی۔ دوسرے ممالک کے علاوہ انڈیا نے بھی اس تجویز کی حمایت کی۔ اس ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں 194 ممالک نے شرکت کی تھی۔چین کا دفاع کرتے ہوئے اس اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین نے اس پورے معاملے میں ذمہ داری اور شفافیت سے کام لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے عالمی ادارہ صحت کو صحیح وقت پر وائرس سے متعلق معلومات فراہم کیں۔ وائرس پر قابو پانے کے بعد چین کسی بھی قم کی تحقیقات کی حمایت کرتا ہے‘‘۔چین اس وقت کورونا وائرس کے نقطہ آغاز اور ابتدا میں اپنی جانب سے مبینہ طور پر غلط قدم اٹھائے جانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود چین نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔چین پر سب سے زیادہ تنقید امریکہ کی جانب سے ہوئی ہے جہاں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تادم تحریر ایک لاکھ بائیس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ’’وہ چین کو کووڈ 19 پر خاموش رہنے کی وجہ سے سزا دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے‘‘۔ امریکی میڈیا میں انڈیا اور چین کے درمیان ایل اے سی پر تنازعہ سے متعلق خبروں کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے۔مثال کے طور پر سی این این کی ویب سائٹ پر چین کے بارے میں شائع کیے جانے والے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ ’’یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بیجنگ نے جنوبی چائنا سی میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے یا پھر بھارت کے ساتھ سرحد پر کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور نئی دلی کے سیاسی لیڈر کا کورونا وائرس کی وجہ سے اندرونی معاملات میں دھیان بٹا ہوا ہے، چین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ کیسے ان علاقوں میں فائدہ اٹھائے کہ جسے کورونا وائرس کی وبا ختم ہونے کے بعد بدلا نہ جاسکے‘‘۔کچھ ماہرین موجودہ تنائو کو جمو ں و کشمیر سے بھی جوڑتے ہیں مثال کے طور پر سابق سفیر اور بھارتی اور چینی امور کے ماہر’ پی سٹوبدان‘ نے ’انڈین ایکسپریس‘ میں شائع اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ تازہ کشیدگی کو صرف ایل اے سی کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ جب انڈیا نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹایا تھا اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دیا تھا تو چین نے اس پر سخت تنقید کی تھی اور اسے ’ناقابل قبول اور‘ چین کی ’سا لمیت‘ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا یہاں تک کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
بہر کیف اس ساری صورتِ حال میں اگرچہ دونوں ملکوں کے سربراہان بات چیت اور افہام و تفہیم سے مسئلہ کا حل چاہتے ہیں تاہم اگر معاملات میں مزید تیزی آئی تو حالات خطرناک رخ بھی اختیار کرسکتے ہیں اور دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ خارج ازامکان قرار نہیں دی جاسکتی لیکن اندرونی مسائل کے چلتے اتنا لگ رہا ہے کہ نرمی اور صلح صفائی سے ہی تنازع کو رفع دفع کرنے کو ترجیح دی جائے گی اور دینی بھی چاہئے کیونکہ موجودہ صورتحال میں جنوب ایشائی خطہ شاید ہی کسی بڑی جنگی صورتحال کا متحمل ہوسکتا ہے۔
ای میل :[email protected]