جموں//سابق وزیر غلام محمد سروڑی کی قیادت میں ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن کی مقامی عوام نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے لئے گئے فیصلے اور خطہ چناب میں حالیہ برفباری سے متاثرین کے مسائل کا ازالہ نہ ہونے کے پیش نظر زور دار احتجاج کیا ۔اس دورانپارٹی کے دیگر رہنماﺅں کے ساتھ ساتھ ایم ایل سی نریش گپتا بھی سروڑی کے ہمراہ موجود تھے۔ سروڑی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھاجپا بیروکریسی کے تحت ریاست میں اقتدار میں رہنا چاہتی ہے اور ریاست میں اسمبلی انتخابات کی خواہاں نہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں بھاجپا کی وجہ سے اسمبلی انتخابات میں تاخیر ہوئی ہے اور بھاجپا منقسم سیاست کھیل رہی ہے۔موصوف نے کہا کہ بھاجپا کے پاس رام مندر کا مسئلہ تھا اور اب فوجیوں کا مسئلہ ہے ۔سروڑی نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا تھا کے انتخابات کے دوران ہر سکیورٹی فورسز کا انتظام کیا جائے لیکن اب ای سی آئی کی جانب سے بیان آرہا ہے کہ تمام امیدواروں کے زائد سکیورٹی فورسز نہ ملیں گے ااور مشترکہ انتخابات نہیں کروائے جا سکتے ۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں بھاجپا کی جانب سے کئے جانے والے وعدے ریاست جموں و کشمیر کی عوام کیلئے ایک بڑا جھوٹ تھے کیونکہ گزشتہ دو برسوں سے کئی اسکیموں کی اجرتیں بقایا ہیں ۔موصوف نے کہا کہ2016-17اور2017-18 کی منریگا کی بقایا اجرتیں واگزار نہیں کی گئی ہیں ۔علاوہ ازیں سوچھ بھارت اور آئی ایچ ایچ ایل کی اجرتیں بھی دو برسوں سے واگزار نہیں کی گئی ہیں۔سروڑی نے کہا کہ تمام بقایاجات ادا کئے جائیں ۔سروڑی نے کہا کہ پی ایم اے وائی کی رقومات کہاں ہیں جبکہ حالیہ برفباری سے سینکڑوں مکانوں کو نقصان ہوا ہے ،موصوف نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور برفباری کے دوران کئی سڑکیں اور رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہوئی ہیں جبکہ نظام بجلی بھی کافی حد تک متاثر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پورے خطے میں ہوئے حالیہ نقصان کا تخمینہ لگا کر رلیف واگزار کی جائے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ریاست میں اسمبلی انتخابات نہ کروانے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے تاکہ ایک جمہوری حکومت کا قیام ریاست میں نافذ ہو سکے ۔