جموں//جموں ویسٹ اسمبلی موومنٹ کے صدر سونیل ڈمپل نے ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی غیرموجودگی میں ان کے گھر بٹھنڈی جموںپرہوئے حملے کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے تشویش کااظہار کیا ہے ۔ یہاں جاری پریس بیان میں سنیل ڈمپل نے انتظامیہ سے وسیع پیمانہ پر معاملہ کی تحققات کرانے کامطالبہ کیاہے۔ انہوںنے کہا کہ جموں صوبہ میں غیرملکیوں کی موجودگی میں کچھ بھی ہوسکتاہے اوراس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاہے کہ غیرملکیوں کے تعلقات اوررابطہ آئی ایس آ ئی سے ہے۔ سنیل ڈمپل نے کہا کہ خدا کالاکھ لاکھ شکرہے جس کے کر م وفضل سے ڈاکٹرفار وق عبداللہ کی جان بچ گئی اوران کی غیرموجودگی میں حملہ آور ہلاک ہوگیا۔ انہوںنے مزید کہاہے کہ فوت ہوچکے حملہ آورسے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہو اہے لہذا تحقیقاتی عمل دونوں اطراف سے مکمل ہونی چاہئے تاکہ معاملہ کی تصدیق صحیح معنوں میں ہوسکے کہ آیا حملہ آورکس غرض سے وہاں پربہ آسانی پہنچ گیا۔ ڈمپل نے مزید بتایاہے کہ یوم آزادی قریب ہے اور ہمارے حفاظتی دستے غفلتکی نیند میں مست ہیں اورحملہ آور امن اوربڑی آسانی سے اہم جگہ پر آکرحملہ کرتاہے اورسکیورٹی ایجنسیوں کو بھنک تک نہیں دیا اورسکیورٹی ایجنسیوں کیلئے یہ کتنا بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوںنے کہاکہ خوش قسمتی یہ ہے کہ ڈاکٹرفاروق عبداللہ گھرپرنہیں تھے اوروہ خدا کے رحم وفضل سے وہ بال بال بچ گئے۔ انسپکٹرجنرل جی ڈی سنگھ اورایس ایس پی جموں وویک گپتا کے ساتھ ملاقات کے دوران سنیل ڈمپل نے کہا کہ پولیس نے معاملہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کرنے کا ہمیںیقین دلایاہے لیکن پھر بھی احتیاط برتنے کی سخت ضرورت ہے۔ انہوںنے عوام کو خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیوں اوربنگلہ دیشیوں کو آئی ایس آئی اور لشکرطیبہ وجیش محمد سے برابر رابطہ ہے اورحالیہ دنوں بس سٹینڈ جموںمیںگرنیڈ دھماکہ کراکے پولیس انتظامیہ کوچکمہ دے رفو چکر ہوگئے جن کے بارے میں ابھی بھی کوئی اتہ پتہ نہیں جو کہ باعث تشویش بات ہے۔
بٹھنڈی واقعہ کی باریکی سے تحقیقات کروائی جائے:عاشق خان
جموں//شیعہ فیڈریشن نے بٹھنڈی میں سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے گھر کے باہر مینڈھر کے ایک نوجوان کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات کا مطالبہ کیاہے ۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں فیڈریشن صدر عاشق حسین خان نے کہاکہ اس معاملے کی باریک بینی سے تحقیقات ہونی چاہئے کہ نوجوان کی ہلاکت کس بنیاد پر ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ نوجوان کے لواحقین سراپا احتجاج ہیں اور ان کا کہناہے کہ اسے جرم بے گناہی میں قتل کردیاگیاہے جس پر تحقیقات کروانے کی ضرورت ہے اور ملوثین کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ان کاکہناہے کہ اگر نوجوان کے پاس نہ کوئی ہتھیار تھااور نہ ہی کچھ اورتو پھراسے حملہ آور کیسے قرار دیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ تحقیقات طلب ہے جس کو محض یہ کہہ کر دبایا نہیں جاسکتاکہ وہ فاروق عبداللہ کے گھر کی طرف بڑھ رہاتھا اس لئے خطرہ جان کر اسے ماردیاگیا۔عاشق خان نے ریاستی گورنر این این ووہرا اور پولیس حکام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی باریکی سے تحقیقات کروائی جائے اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے ۔