سرینگر//جموں و کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پلوامہ، شوپیاں، اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں50افراد کی گرفتاری، ترال جانے والے تمام راستوں کو سیل کرنے اورفوج ، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں کی جانب سے برہان وانی کی پہلی برسی پرشامیانے کو ہٹانے اور تعزیت پرسی کیلئے آنے والے لوگوں کو زبردستی باہر نکالنے ، تعزیت پرسی کیلئے جمع ہوئے نوجوانوں کو پولیس کے حوالے کرنے اور گھر کے سامان کو تہس نہس کرنے کی کاروائی کی غلط اوروحشانہ قرار دیا ہے۔بار ایسوسی ایشن نے شوپیاں، اننت ناگ اور ترال میں عام آبادی پر چھروں اور گولیوں کی برسات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بار ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ترال میں تعزیت پر آئے لوگوں پر چھروں اور گولیوں کی برسات سے 30افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں 8خواتین بھی شامل ہیں۔ بار ایسوسی ایشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے بے گناہ نوجوانوں کی نہ صرف مارپیٹ کی ہے بلکہ ان کو بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کرنے پر مجبور کیا اور جب انکی حالت خراب ہوگئی توانہیں علاج کیلئے ایس ڈی ایم کے حوالے کیا گیا ۔ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے قصبوں کے علاوہ ضلع پلوامہ، شوپیاں ، ترال ، کولگام ، اننت ناگ، سرینگر، بارہمولہ ، بانڈی پورہ اور سوپورکے اندرونی علاقوں سمیت پورے کشمیر کو فوجی چھائونی میں تبدیل کیا گیا۔ بار ایسوسی ایشن نے برہان وانی سمیت پچھلے 70سال کے دوران کشمیر کاز کیلئے جان گنوانے والے افراد کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو نافذ کرنے، سڑکوں کو بند کرنے، مساجد پرپر تالہ چڑھاکر لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکنا ، گرفتاریاں، عام شہریوں کو انٹراگیشن سینٹروں میں لینا، عام لوگوں کو مارنے اور اندھا کرنے اور کشمیری لوگوں کو بندوق کے بل پر زیر کرنے کی کوشش سے بھارتی حکمرانوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا کیونکہ کشمیر عوام نے کسی بھی قیمت پر حق خود اداریت حاصل کرنے کی کوشش ہمیشہ سے رہے گی اور کشمیر مسئلہ حل کرنے کا ایک واحد ذریعہ جموںو کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت رائے شماری ہے۔