لندن//برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم م کو عالمی رہنماؤں اور معززین سمیت 2 ہزار سے زائد شرکا سے بھرپور اجتماع کے سامنے آرچ بشپ نے تاج پہنایا۔قبل ازیں، بادشاہ چارلس سے آڑچ بشپ آف کینٹربری نے حلف لیا جبکہ بادشاہ چارلس نے حلف نامے پر دستخط کردیے، جس کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم رشی سوناک نے مختصر خطاب کیا۔بعد ازں، مختلف رسومات جاری رہیں اور شاہ چارلس سوم کو آرملز (بریسلیٹ) پیش کیا گیا۔شہزادہ ہیری تقریب میں شرکت کے لیے ویسٹ منسٹر ایبے پہنچے جہاں پر شاہی خاندان کے مزید سینئر ارکان اور ان کے کزن اور خالہ اور چچا بھی موجود ہیں۔یہ واضح نہیں تھا کہ آیا بادشاہ چارلس کے چھوٹے بیٹے ہیری اس تاریخی موقع پر شرکت کریں گے یا نہیں، تاہم انہوں نے گزشتہ مہینے کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ میگھن اور دونوں بچوں کے بغیر تاج پوشی کی تقریب میں شرکت کریں گے، اْن کے سب سے چھوٹے آرچی بیٹے کی آج سالگرہ بھی ہے۔شاہ چارلس سوم کو آج ملک میں 7 دہائیوں میں ہونے والی سب سے بڑی تقریب میں تاج پہنایا جائے گا جسے دیکھنے کے لیے برطانیہ سمیت دنیا بھر سے ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔شاہ چارلس اپنی والدہ ملکہ الزبتھ کے جانشین ہیں جو گزشتہ برس ستمبر میں انتقال کر گئی تھیں۔لندن کے ویسٹ منسٹر ایبے میں آج ہونے والی تاج پوشی کی اس تقریب میں شاہ چارلس 14 ویں صدی میں تیار کردہ اس تخت پر بیٹھتے ہوئے 360 سالہ سینٹ ایڈورڈ کا تاج اپنے سر پر رکھنے والے سب سے معمر برطانوی بادشاہ بن جائیں گے۔ویسٹ مِنسٹر ایبے میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں امریکی خاتون اول جِل بائیڈن سمیت تقریباً 100 سربراہان مملکت اور معززین شرکت کریں گے، سنہ 1066 سے شروع ہونے والے اس سلسلے میں شاہ چارلس 40ویں شاہی حکمراں ہوں گے جن کی تاج پوشی ویسٹ منسٹر ایبے میں ہو گی۔دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تقریب کے دوران اْن کی 75 سالہ دوسری اہلیہ ملکہ کیملا کو بھی تاج پہنایا جائے گا۔وزیر اعظم رشی سوناک نے کہا کہ ’کوئی دوسرا ملک جلوس، محفل، اور گلیوں میں ہونے والی پارٹیوں سے بھرپور اس طرح کی شاندار تقریب منعقد نہیں کر سکتا‘۔انہوں نے کہا کہ یہ ہماری تاریخ، ثقافت اور روایات کا فخریہ اظہار ہے، یہ ہمارے ملک کے جدید کردار کا ایک واضح مظاہرہ اور ایک پسندیدہ رسم ہے جس کے ذریعے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے۔تاج پوشی کے بعد شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا 4 ٹن سونے کی بنی ہوئی اسٹیٹ کوچ میں روانہ ہوں گے جو جارج سوئم کے لیے بنایا گیا تھا، وہ 39 ممالک کے 4 ہزار فوجی اہلکاروں کے ایک میل طویل جلوس میں واپس بکنگھم پیلس پہنچیں گے۔