لندن // ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن ( ڈبلیو ٹی او ) کی نئی سربراہ نے کہا کہ برطانیہ کو اب دنیا کے غریب تر ملکوں کوکورونا وائرس ویکسین عطیہ کرنی چاہیے۔ ڈبلیو ٹی او کی سربراہ نگوزی اوکونجو ائیولا نے کہا کہ ترقی پذیر ملکوں کو ویکسین کے سر پلس ہونے کے انتظار میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دولت مند ملکوں کے مفاد میں ہے کہ ویکسینز تک تمام ملکوں کو رسائی ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی اس بات کے بعد کیا کہ برطانیہ اپنی سرپلس ویکسینز غریب ملکوں کو عطیہ کرے گا۔ جمعہ کے روز جی 7 ممالک کے رہنمائوں نے کورونا وائرس کوویڈ 19 پر تعاون کو تیز کرنے کا وعدہ کیا اور کوواکس ویکسین شیئرنگ انشی ایٹیو میں اپنے کنٹری بیوشن میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا جس کا مقصد آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کی کمزور اور غریب آبادی کیلئے کم از کم 1.3 بلین خوراکیں تیار کرنا ہے۔ ترقی پذیر دنیا کو برطانوی حکومت کے سرپلس ویکسینز عطیہ کرنے کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے میں کہا کہ یہ خوش آئند اقدام ہے۔ مجھے نہیں خیال کہ جب ہم دوسرے لوگوں کیلئے کوئی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں تو ہمیں سرپلس ہونے کا انتظار کرنا چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ جو بھی عطیہ کیا جانا چاہیے وہ ابھی اور اسی وقت کیا جانا چاہیے۔ اس کی سادہ اور آسان سی وجہ یہ ہے کہ یہ امیر ملکوں کے ساتھ ساتھ غریب ممالک کے مفاد میں ہے کہ وہ ان ویکسینز تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ڈبلیو ٹی او کی نئی سربراہ نے انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس (آئی سی سی) کی ایک سٹڈی کا حوالہ دیا جس میں گلوبل ویکسی نیشن کیلئے اکنامک کیس کا ایک خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کی اس ریسرچ میں یہ سامنے آیا ہے کہ اگر سال کے وسط تک امیر ملکوں نے اپنی نصف آبادی کی ویکسی نیشن کر دی اور غریب ملکوں کی آبادی کو ویکسین نہیں دی گئی تو اس سے دنیا بھر کو جی ڈی پی میں 9 ٹریلین ڈالر (6.4 ٹریلین پونڈ ) کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا اور اس کی نصف لاگت امیر ملکوں کو برداشت کرنا پڑے گی۔ لہٰذا ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ویکسین تک مساویانہ رسائی امیر اور غریب دونوں کے مفاد میں ہے ورنہ تمام ملکوں اور لوگوں کا نقصان ہو گا۔ جی 7 لیڈرز نے جمعہ کو ورچوئل سمٹ کے بعد جاری مشترکہ بیان میں کہا کہ انہوں نے کوواکس سکیم کیلئے اپنی مجموعی کمٹمنٹ کو 7.5 بلین ڈالر (5.3 بلین پونڈ ) تک بڑھا دیا ہے۔ ان رہنمائوں کے وعدے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کی اس بات کے چند دنوں کے بعد سامنے آئے جس میں انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اب تک کورونا ویکسین کی تقسیم غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ ہے۔ صرف 10 ملکوں نے دنیا بھر میں 75 فیصد ویکسین لگوا دی ہے جبکہ 130 ملکوں کو ویکسین کی ایک خوراک بھی نہیں ملی ہے۔