محمد تسکین
بانہال// قصبہ بانہال سے قریب تین کلومیٹر دور بنکوٹ گاؤں میں قائم گورنمنٹ ڈگری کالج بانہال آج بھی بنیادی سہولیات، خصوصاً معیاری سڑک رابطے سے محروم ہے، جس کے باعث سینکڑوں طلبہ، طالبات اور تدریسی عملے کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور طلبہ نے محکمہ ہائیر ایجوکیشن اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ 2014میں شروع کی گئی کالج عمارت کی تعمیر مکمل ہونے اور گزشتہ پانچ برسوں سے کالج کی اپنی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رہنے کے باوجود ادارے تک مناسب سڑک فراہم نہیں کی جا سکی۔کالج میں زیر تعلیم متعدد طلبہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے پر رتن باس سے ڈگری کالج بانہال تک زیر تعمیر رابطہ سڑک گزشتہ چھ سے سات برسوں سے تعطل کا شکار ہے، جس کے باعث کالج آنے جانے والے طلبہ اور طالبات کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طلبہ کے مطابق چند مقامی مکان مالکان کو معاوضہ ادا نہ کئے جانے کے تنازعے کی وجہ سے سڑک کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی، جس کا براہِ راست خمیازہ طلبہ اور تدریسی عملہ بھگت رہا ہے۔محمد آصف جلال نامی ایک طالب علم نے بتایا کہ طلبہ کو روزانہ غیر ہموار، دشوار گزار اور پُرخطر راستوں سے پیدل سفر کرکے کالج پہنچنا پڑتا ہے۔ ایک اور طالب علم محمد اسحاق نے کہا کہ بارشوں اور خراب موسم کے دوران یہ راستے مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور طالبات کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔طلبہ کے مطابق بانہال اور رامسو سب ڈویژن کے دور افتادہ علاقوں سے آنے والے سینکڑوں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں ٹریفک جام، گاڑیوں کی قلت اور طویل پیدل سفر کی نذر ہو رہی ہیں۔ کالج کی ایک طالبہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چونکہ کالج کو-ایجوکیشن ادارہ ہے، اس لئے طالبات کو غیر محفوظ راستوں، نجی زمینوں اور باغات سے گزر کر کالج پہنچنا پڑتا ہے، جہاں انہیں اوباش عناصر اور جنگلی جانوروں کے خطرات کا بھی سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ کالج پہنچنے میں وقت اور توانائی کا بڑا حصہ صرف ہو جاتا ہے، جس سے تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ کالج کیلئے دستیاب بسیں اور دیگر گاڑیاں بھی مناسب سڑک نہ ہونے کی وجہ سے استعمال میں نہیں لائی جا سکتیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ڈگری کالج بانہال گزشتہ بارہ برسوں سے زیر تعمیر ہے، لیکن آج تک نہ مکمل دیوار بندی کی گئی ہے اور نہ ہی طلبہ کیلئے ہوسٹل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑی، مہو منگت، نیل، پوگل پرستان اور سمبڑ جیسے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کیلئے رہائشی سہولتیں میسر نہ ہونے کے باعث انہیں دو سے تین ہزار روپے ماہانہ کرایہ ادا کرکے نجی کمروں میں رہنا پڑتا ہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرنے والے طلبہ و طالبات نے حکومتِ جموں و کشمیر، وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن سکینہ ایتو ، ممبر اسمبلی بانہال سجاد شاہین اور محکمہ پی ڈبلیو ڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ڈگری کالج بانہال کو فوری طور پر معیاری سڑک رابطہ فراہم کیا جائے تاکہ چملواس ، کھڑی ، مہو منگت ، رامسو ،نیل ، اُکڑال پوگل پرستان کے علاقوں سے آنے والے سینکڑوں طلبہ کو شاہراہ کے رتن باس سے تعمیر کی جانے والی سڑک سے راحت مل سکے اور انہیں درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈگری کالج جیسے اہم تعلیمی ادارے کو برسوں تک بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا حکومت اور ہائیر ایجوکیشن محکمہ متعلقہ کی مکمل ناکامی اور عدم دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے اور اس مسئلے کو فوری بنیادوں پر حل کیا جانا چاہئے۔