یو این آئی
نئی دہلی// پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ میں سازگار ماحول بنانے کرنے کے لئے حکومت نے گزشتہ اجلاس میں معطل کئے گئے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کی تجویز پیش کی ہے اور دونوں ایوانوں کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کی توقع ظاہر کی ہے ۔ بدھ سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مختصر بجٹ اجلاس سے قبل منگل کو یہاں منعقدہ کل جماعتی میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لینے کے بارے میں بات کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں 30 جماعتوں کے کل 45 رہنماؤں نے شرکت کی اور ہر ایک نے سازگار ماحول میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میٹنگ میں حکومت نے ممبران پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ یہ 17ویں لوک سبھا کا آخری اور انتہائی مختصر سیشن ہے ۔ تاکہ اجلاس میں پارلیمنٹ کا کام کاج مکمل ہو سکے اور پارلیمنٹ کو خوشگوار ماحول میں چلائیں اور ایوان میں پلے کارڈز نہ لائیں۔گزشتہ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کی معطلی سے متعلق سوال کے جواب میں مسٹر جوشی نے کہا کہ تمام معطل اراکین پارلیمنٹ کی معطلی واپس لے لی جائے گی۔ پارلیمانی امور کے وزیر ہونے کے ناطے میں نے خود اس معاملے پر لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین سے بات کی ہے اور ان سے معطلی واپس لینے کی درخواست کی ہے ۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کا معاملہ لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کا دائرہ اختیار کا معاملہ ہے ۔ معطل اراکین پارلیمنٹ کا معاملہ استحقاق کمیٹیوں کے پاس ہے ، اس لیے ہم نے دونوں سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ مراعات یافتہ کمیٹیوں سے بات کر کے اراکین پارلیمنٹ کی معطلی منسوخ کی جائے ۔مسٹر جوشی نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکڑنے حکومت کی درخواست پر اتفاق کیا ہے ۔