محمد تسکین
بانہال // سب ضلع ہسپتال بانہال سمیت صوبہ جموں کے متعدد ہسپتالوں میں ایکسرے سہولت کی معطلی نے نہ صرف مریضوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ سرکاری ہسپتالوں میں تشخیصی خدمات کے لیے ٹھیکہ داری نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بنیادی سہولت کا ایک معاہدے کے ختم ہوتے ہی بند ہو جانا انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں گول سے تعلق رکھنے والاایک شخص اپنے زخمی بیٹے کو لے کر سب ضلع ہسپتال بانہال پہنچا تھا۔ بچے کو گرنے سے فریکچر ہوا تھا، مگر اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایکسرے نہ ہونے کا جواز دیتے ہوئے معائنہ کرنے سے معذوری ظاہر کی۔ ویڈیو میں متاثرہ والد کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ایکسرے کے بغیر درست تشخیص ممکن نہیں، جس کے باعث انہیں شدید ذہنی اور مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔مقامی شہریوں اور مریضوں نے الزام لگایا کہ ہسپتال میں عمارت اور عملہ موجود ہونے کے باوجود بنیادی تشخیصی سہولت بند رہنا ناقابلِ قبول ہے، خاص طور پر اُن علاقوں کے لیے جہاں متبادل نجی مراکز تک رسائی آسان نہیں۔ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر میں ڈیجیٹل ایکسرے خدمات ایک نجی کمپنی کے ذریعے نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت فراہم کی جا رہی تھیں، تاہم معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد خدمات معطل ہو گئیں ہیں اور نئی ٹینڈرنگ تک بحالی ممکن دکھائی دے رہی ہے ۔چیف میڈیکل آفیسر رام بن، ڈاکٹر کمل جی زاڈو نے اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف بانہال تک محدود نہیں بلکہ جموں ڈویژن کے کئی اضلاع میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام بلاک میڈیکل افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ عارضی بنیادوں پر ہسپتال ڈیولپمنٹ فنڈ سے ضروری سامان، بشمول پرنٹرز، خرید کر ایکسرے سروس بحال کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں پرانے طرز کے دستی (مینول) ایکسر ے پلانٹ دستیاب ہیں انہیں وہاں فوری طور پر مریضوں کے ایکسرے کیلئے شروع کیا جائے تاکہ مریضوں کو مزید پریشانی نہ ہو۔ سی ایم او نے یقین دہانی کرائی کہ نئی ٹینڈرنگ تک عبوری انتظامات کیے جا رہے ہیں اور جلد ہی خدمات مکمل طور پر بحال کر دی جائیں گی۔ادھر سول سوسائٹی اور صحت سے جڑے ماہرینِ کا کہنا ہے کہ بنیادی تشخیصی سہولیات کو نجی معاہدوں سے جوڑنے کے بجائے مستقل سرکاری ڈھانچے کے تحت چلایا جانا چاہیے تاکہ اس طرح کی رکاوٹوں سے بچا جا سکے اور مریضوں کو بروقت علاج میسر آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرز سے محکمہ صحت کی سہولیات کو کسی کمپنی کے یرغمال بنانا انسانی صحت سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔