عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//میدانی علاقوں میں وسیع پیمانے پر بارش اور بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برفباری کے بعد پیر کی دوپہر جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موسم میں بہتری آئی۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید دو مغربی ہوائوں کے مرحلےآئیں گے جو مزید بارش یا برفباری کا باعث بن سکتے ہیں۔حکام کے مطابق کشمیر کے بیشتر بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی برفباری ہوئی، جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کے باعث کئی مقامات پر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔حکام نے بتایا کہ بارہمولہ ضلع کے سیاحتی مقام گلمرگ، بڈگام ضلع کے دودھ پتھری اور گاندربل ضلع کے سونمرگ میں تقریباً 3 سے 4 انچ ہلکی برفباری ریکارڈ کی گئی۔بالائی علاقوں میں بھی تازہ برفباری ہوئی۔حکام کے مطابق شوپیاں ضلع میں مغل روڈ کے ساتھ پیر کی گلی، زوجیلا کا علاقہ، بانڈی پورہ ضلع میں رازدان ٹاپ اور گریز، جبکہ اننت ناگ کو کشتواڑ سے ملانے والاسنتھن ٹاپ میں 5سے 6انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ کپواڑہ ضلع کے سادھنا ٹاپ میں 12 انچ سے زیادہ تازہ برف پڑی، جبکہ سنتھن ٹاپ اور مرگن ٹاپ میں 8سے 10انچ تک برفباری ہوئی۔
برفباری کے باعث کئی اہم سڑکیں بند ہو گئیں جن میں گریز۔بانڈی پورہ روڈ، سنتھن۔کشتواڑ روڈ، مرگن ٹاپ۔واروان روڈ اور مغل روڈ شامل ہیں، جو کشمیر وادی کو جموں خطے سے ملانے والا متبادل راستہ ہے تاہم آج بعد دوپہر مغل روڈ کو ٹریفک کیلئے بحال کیاگیا۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اننت ناگ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری کے مطابق شدید برفباری اور خراب سڑکوں کی وجہ سے سفر خطرناک ہو گیا ہے۔ایڈوائزری میں کہا گیا کہ شدید برفباری، پھسلن والی سڑکیں اور برفانی تودے یا لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے باعث اس علاقے میں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں دونوں کے لیے نقل و حرکت انتہائی خطرناک ہے۔حکام نے بتایا کہ سنتھن ٹاپ اور مرگن ٹاپ کی طرف تمام گاڑیوں اور پیدل آمد و رفت کو اگلے احکامات تک معطل کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انتظامیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات پر سختی سے عمل کرانے کی بھی ہدایت دی ہے۔دیگر بلند مقامات پر بھی برف صاف کرنے کا کام جاری ہے۔زوجیلا پاس پر تقریباً 6 انچ برف جمع ہونے کے بعد سرینگر-لہہ شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی۔جموں و کشمیر کے میدانی علاقوں میں پیر کی صبح تک وقفے وقفے سے بارش جاری رہی۔حکام کے مطابق سرینگر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 15.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔پہلگام میں 15.7ملی میٹر، کوکرناگ میں 10.2 ملی میٹر، کپواڑہ میں 14.0 ملی میٹر اور قاضی گنڈ میں 9.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔جموں کے میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی بارش ہوئی جبکہ کشتواڑ اور رام بن کے بالائی علاقوں میں ہلکی برفباری ہوئی۔جموں میں 20.8ملی میٹر، بانہال میں 24.9ملی میٹر، بٹوت میں 31.4 ملی میٹر، کٹرا میں 19.6ملی میٹر، بھدرواہ میں 19.0ملی میٹر اور کٹھوعہ میں 22.2ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لداخ کے علاقے میں بھی بارش اور برفباری ہوئی، جبکہ لہہ، کرگل، دراس اور نوبرا کے بالائی علاقوں میں برفباری کی اطلاع ملی۔اس نم موسم کے باعث کشمیر وادی میں درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی۔حکام کے مطابق اتوار کو سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 11.0 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے تقریباً 4.5 ڈگری کم تھا۔تاہم پیر کو درجہ حرارت میں معمولی بہتری آئی اور شہر میں 14.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 0.4 ڈگری کم ہے۔کم سے کم درجہ حرارت میں بھی کمی آئی اور سرینگر میں 5.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے صرف 1.6 ڈگری زیادہ ہے۔وادی کے دیگر موسمی مراکز اور جموں میں بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت معمول سے کم رہا جس سے حالیہ دنوں کے غیر معمولی طور پر زیادہ دن کے درجہ حرارت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔محکمہ موسمیات نے 20 مارچ تک غیر مستحکم موسم کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق پیر اور منگل کو چند مقامات پر بالائی علاقوں میں ہلکی بارش یا برفباری کا امکان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 18 سے 20 مارچ کے دوران موسم عموماً ابر آلود رہے گا اور کئی مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری ہو سکتی ہے۔24 اور 25 مارچ کو بھی ایک اور نم موسم کا امکان ہے۔اس دوران مختلف مقامات پر بالائی علاقوں میں ہلکی بارش یا برفباری ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیر اور 18 سے 20 مارچ کے دوران بعض مقامات پر 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرج چمک یا تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ متوقع موسمی حالات کے پیش نظر 20 مارچ تک زرعی سرگرمیاں معطل رکھیں۔
سنتھن ٹاپ پر برفباری
۔38گاڑیوں میں سوار 235مسافروں کو بچا لیا گیا
عاصف بٹ
کشتواڑ//کشتواڑ اور اننت ناگ اضلاع میں حکام نے اتوار کی شام تازہ برف باری کے بعد سنتھن ٹاپ پر پھنسے ہوئے تقریباً 235 مسافروں کو لے کر جا رہی 38سے زائد گاڑیوں کو نکال لیا ۔ڈکسم-سنتھن ٹاپ-کشتواڑ سڑک کو برف باری کی وجہ سے بند کر دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے بتایا’’ 38ہلکی اور بھاری دونوں طرح کی گاڑیوں کو، جن میں تقریباً 235 مسافر سوار تھے، کو سنتھن ٹاپ پر کشتواڑ اور اننت ناگ انتظامیہ، پولیس اور فوج نے بچایا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر پھنسے ہوئے مسافر کشتواڑ اور اننت ناگ میں یا تو پہنچ چکے ہیں یا اپنی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اچانک برف باری نے راستہ بند کر دیا اور حکام کو پھنسے ہوئے مسافر گاڑیوں کو نکالنے کے لیے سخت کوششیں کرنا پڑیں۔عہدیداروں نے بتایا’’معاملہ ڈپٹی کمشنروں اور کشتواڑ اور اننت ناگ کے پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ کے توجہ میں لانے کے بعد ضلع انتظامیہ اور پولیس نےبچا ئوآپریشن کیا‘‘۔وائٹ نائٹ کور نے Xپر ایک پوسٹ میں کہا’’15مارچ کواطلاع ملی کہ سنتھن ٹاپ پر 235شہری شدید برف باری اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں‘‘۔ وائٹ نائٹ کور کے دستوں کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا تاکہ مشکل خطہ اور مسلسل برف باری کے باوجود ایک تیز ریسکیو آپریشن شروع کیا جا سکے۔فوج نے کہا’’سخت موسم اور برف سے مسدود سڑکوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، امدادی ٹیمیں سنتھن چوٹی پر پہنچی اور پھنسے ہوئے شہریوں کو گرم کھانا، پینے کا پانی اور پناہ گاہ فراہم کی، مرمت اور بحالی کی ٹیموں نے پھنسے ہوئے گاڑیوں کی نقل و حرکت کو بحال کیا، جب کہ ناقابل بازیافت گاڑیوں سے مسافروں کو بحفاظت نکال لیا گیا‘‘۔حکام نے بتایا کہ کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر پنکج کمار شرما نے ایس ایس پی نریش سنگھ اور 11 راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر کے ساتھ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی، جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔