راجوری//ایک ایسے وقت جب پورے جموںوکشمیر میں اعلیٰ تعلیم محکمہ سے جڑی سبھی یونیورسٹیاں اور کالج کھل چکے ہیں اور روایتی درس و تدریس کاسلسلہ شروع ہوچکا ہے تاہم صوبہ جموں کے ضلع راجوری میں قائم بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی ہنوز طلباء کیلئے مقفل ہے ۔بابا غلام شاہ بادشا ہ یونیورسٹی کے طلباء کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی منتظمین کی جانب سے حکومت کے تعلیمی اداروں کے کھولے جانے کے احکامات کی پیروی نہیں کی گئی ہے جبکہ جموں و کشمیر بھر میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے مکمل کھل چکے ہیں،نیز بنیادی اور سیکنڈری تعلیم کے ادارے جزوی طور کھولے جا رہے ہیں، لیکن راجوری میں قائم بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو تاحال عملی طور نہیں کھولا گیا ہے۔ حکومت جموں و کشمیر کی جانب سے گزشتہ ماہ یکم فروری اور یکم مارچ سے بالترتیب جموں اور کشمیر صوبہ میں اسکول اور اعلیٰ تعلیم کے ادارے کھولنے کے احکامات صادر کیے گئے تھے جن پر عمل کرتے ہوئے جموں صوبہ میں تعلیمی ادارے مکمل کھل چکے ہیں وہیں صوبہ کشمیر اعلیٰ تعلیم کے تمام ادارے عملی طورکھل چکے ہیںتاہم یہ یونیورسٹی مسلسل بند ہے۔ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے شعبہ اْردو ، سماجیات، سائنس، اسلامیات، ریاضی اور دیگر شعبوں کے طلباء نے کہا کہ 5اگست 2019 سے لیکر تاحال جامعہ کا تعلیمی نظام خستہ حالی کا شکار ہو رہا ہے، جس کی جانب سے محکمہ اعلیٰ تعلیم و جامعہ کے منتظمین کو دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بھر میں جہاں تمام تعلیمی ادارے کھول دیے گئے ہیں وہیں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کو کھولنے میں کیا حرج ہے۔ طلباء نے کہا، ’’وہ فیس اسی لئے ادا کرتے ہیں کہ انہیں ادارہ سے کچھ سیکھنے کو ملے، لیکن بدقسمتی سے ادارہ کو طلباء کے مستقبل اور اْن کی تعلیم کی جانب کوئی توجہ نہیں ہے‘‘۔