سرینگرمیں آوارہ کتوں کی تعداد65ہزار،نس بندی صرف935کی
زہرہ النساء
سرینگر//کشمیر میں آوارہ کتوں کی نس بندی (اسٹرلائزیشن) کے امکانات مسلسل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اب شہامہ اینیمل اسٹرلائزیشن سینٹر، جو شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر کے زیر انتظام ہے، نے سرینگر میونسپل کارپوریشن کو خط لکھ کر اپنی عمارت خالی کرنے کو کہا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ گزشتہ دو برسوں سے اس مرکز میں کوئی سرجری نہیں کی جا رہی۔ اس پیش رفت نے شہر کے اینیمل برتھ کنٹرول پروگرام کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جو کشمیر میں اس نوعیت کا واحد فعال پروگرام تھا۔ذرائع کے مطابق شوہامہ مرکز میں نس بندی کی سرگرمیاں 2024 سے معطل ہیں۔ یہ عمل اس وقت روکا گیا جب انڈین اینیمل ویلفیئر بورڈ نے ایک معائنے کے دوران بعض طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے گئے اور ایس ایم سی کو اپنے آپریشنز میں تبدیلیاں کرنے کی ہدایت دی گئی۔شیرکشمیرزرعی یونیورسٹی کشمیر کے حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یونیورسٹی اور ایس ایم سی کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہو چکی ہے اور چونکہ عمارت استعمال نہیں ہو رہی، اس لیے اسے واپس یونیورسٹی کے حوالے کیا جائے۔
یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرینگر میں آوارہ کتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نس بندی کا پروگرام مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے۔اس معاملے نے اس ماہ اس وقت مزید توجہ حاصل کی جب ایس ایم سی کمشنر فضل الحسیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، ’’اب جب کہ گرمیوں کا موسم آ گیا ہے، سرینگر میں جلد ہی نس بندی مہم دوبارہ شروع کی جائے گی۔‘‘تاہم اس بیان پر تنقید کی گئی اور متعلقہ حلقوں نے سوال اٹھایا کہ موسم سرما کے اختتام کے کئی ماہ بعد بھی پروگرام بحال کیوں نہیں کیا گیا۔دوسری جانب چھترہامہ میں مجوزہ اے بی سی مرکز بھی برسوں گزرنے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا، حالانکہ حکام بارہا اس کے جلد فعال ہونے کی یقین دہانی کراتے رہے ہیں۔آوارہ کتوں کی نس بندی کے عمل کی معطلی نے عوامی سطح پر تشویش کو دوبارہ جنم دیا ہے۔حال ہی میں قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پورے سال 2025 کے دوران سرینگر میں صرف 935 کتوں کی نس بندی کی گئی۔ رواں سال ابھی تک ایس ایم سی کی نس بندی مہم کا آغاز ہی نہیں ہو سکا ہے۔ اے ڈبلیو بی آئی کی ہدایات کے مطابق سردیوں کے موسم کے قریب تمام نس بندی سرگرمیاں معطل کر دی جاتی ہیں۔2023 کے تخمینوں کے مطابق صرف سرینگر میں آوارہ کتوں کی تعداد تقریباً 65 ہزار تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشمیر میں اب تک کتوں کی آبادی کا کوئی سائنسی سروے نہیں کیا گیا۔اسمبلی میں حکومت کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 سے 2025 کے درمیان جموں و کشمیر بھر میں 2,12,968 کتے کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے، جو اوسطاً روزانہ تقریباً 150 واقعات بنتے ہیں۔ان میں سے 1,14,498 کیسز کشمیر ڈویڑن میں رپورٹ ہوئے، جبکہ صرف سرینگر میں 36 ہزار سے زائد واقعات درج کیے گئے۔ماہرینِ حیوانات اور ویٹرنری ماہرین بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ نس بندی پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس کے تسلسل پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مختصر تعطل بھی کتوں کی افزائشِ نسل کے نئے چکروں کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی آبادی دوبارہ تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا بھی متعدد مواقع پر اے بی سی قواعد پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی تحفظ کے ساتھ ساتھ جانوروں کے انسانی اور مہذب سلوک کو یقینی بنانے کے لیے نس بندی پروگرام کو تیز کرنے پر زور دے چکی ہے۔