نوشہرہ میں ڈپٹی سی ایم کی قیادت میں این سی کا جلسہ ،حکومت کی کامیابیاں اجاگر کی گئیں
رمیش کیسر
نوشہرہ //نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور جموں و کشمیر کے ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چوہدری نے نوشہرہ میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی زیر قیادت این سی حکومت کی ترقیاتی کارکردگی کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بنیادی ڈھانچے سمیت دیگر ضروری خدمات کے فروغ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے مثبت اثرات دور دراز علاقوں میں بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔چوہدری نے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جموں کے دور افتادہ علاقوں کا دورہ کریں تاکہ ان وسیع تبدیلیوں کو خود ملاحظہ کر سکیں جو گزشتہ چند برسوں میں عمل میں آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پیرپنچال خطے میں سڑکوں کی تعمیر، گلیوں کی بہتری اور شہری سہولیات کی اپ گریڈیشن پر بھرپور کام ہوا ہے، جو طویل عرصے تک نظر انداز رہا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ’این سی حکومت نے اس خطے کو دوبارہ ترقی کی مرکزی دھارے میں لانے کے لئے انتھک محنت کی ہے‘۔ایس ایم وی ڈی میڈیکل کالج کے سیٹ الاٹمنٹ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چوہدری نے بعض عناصر کی جانب سے پیدا کی جانے والی تقسیم کی کوششوں کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کالج اور یونیورسٹی میں مختلف مذاہب اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں، اور اس اتحاد کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ماتا ویشنو دیوی سب کی ہیں، اور جموں صدیوں سے رواداری، صوفی روایت اور باہمی احترام کی علامت رہا ہے‘۔چوہدری نے کہا کہ این سی حکومت ترقی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ خطے کی ہم آہنگی کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دیتی ہے۔ جموں و کشمیر تمام شہریوں کا ہے، اور ہمارا مقصد ایک متحد، پْرامن اور خوشحال مستقبل کی تعمیر ہے۔اس موقع پر این سی کے صوبائی صدر رتن لعل گپتا نے بھی خطاب کیا اور حکومت کی متعدد عوامی بہبود کی اسکیموں کا ذکر کیا، جن میں جے کے اے ایس امیدواروں کو عمر میں نرمی دینا، دربار موو کی بحالی، اضافی راشن کی فراہمی اور خواتین کے لئے مفت سفری سہولیات شامل ہیں۔ انہوں نے ایل جی انتظامیہ کی جانب سے جے کے اے ایس عمر میں رعایت نہ بڑھانے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔جلسے کے اختتام پر اتحاد، ترقی اور امن کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ جلسے میں وجے لوچن، راکش سنگھ راکا، تھاکر یاشو وردھن سنگھ، اشوک شرما سمیت بڑی تعداد میں عہدیداران، پنچ، سرپنچ اور پارٹی کارکنان موجود تھے۔