جموں و کشمیر میں ٹول پلازوں کی کوئی شکایت زیر التوا نہیں:مرکز
سرینگر//مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر سے قومی شاہراہوں کے ٹول پلازوں پر عملے کے رویے، جسمانی بدسلوکی اور ضرورت سے زیادہ انتظار کے وقت سے متعلق موصول ہونے والی تمام 1597 شکایات کا ازالہ کر دیا گیا ہے اور ایک بھی شکایت زیر التوا نہیں ہے۔مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہیںنتن جے رام گڈکری نے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال کے غیر ستارہ شدہ سوال نمبر 807 کے تحریری جواب میں بتایا کہ 1033 ہیلپ لائن، راج مارگ یاترا ایپ، پبلک گریوینس پورٹل، ای میل اور تحریری درخواستوں کے ذریعے موصول ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت انصاف مل سکے۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں موصول ہونے والی تمام 1,597 شکایات نمٹا دی گئی ہیں، جبکہ ملک کی کئی دیگر ریاستوں میں اب بھی کچھ شکایات زیر التوا ہیں۔ ان میں بہار میں 22، دہلی میں 38، گجرات میں 20، پنجاب میں 28، اڈیشہ میں 10، کرناٹک میں 5، مدھیہ پردیش میں 7، تمل ناڈو میں 7، اتر پردیش میں 6، مغربی بنگال میں 5 اور تلنگانہ میں ایک شکایت ابھی باقی ہے۔گڈکری نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوراننیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے ٹول وصول کرنے والے ٹھیکیداروں کو 146 شوکاز نوٹس جاری کیے۔ مختلف خلاف ورزیوں پر 5.53 کروڑ روپے کے مالی جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ معاہدے کی شرائط اور آپریشنل ضابطوں کی خلاف ورزی پرتین معاہدے منسوخ بھی کیے گئے۔