محمد عرفات وانی
جون کی ایک بارش بھری شام تھی۔ سرینگر کے آسمان پر بادلوں کا ایک خاموش لشکر جمع تھا۔ چنار کے درختوں سے ٹپکتے قطرے سڑکوں پر بکھر رہے تھے اور شہر آہستہ آہستہ رات کی آغوش میں داخل ہو رہا تھا۔ مگر ایس ایم ایچ ایس ہسپتال کی میڈیکل ایمرجنسی میں نہ شام تھی، نہ رات، نہ دن۔ یہاں وقت گھڑی کی سوئیوں سے نہیں بلکہ سانسوں کی آمد و رفت سے ناپا جاتا تھا۔ ایمرجنسی کے دروازے ہر چند منٹ بعد کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ کہیں کسی ماں کی دعا بلند ہوتی، کہیں کسی باپ کی بے بسی آنکھوں سے ٹپکتی، کہیں کسی بچے کی چیخ زندگی کی خواہش کا اعلان کرتی اور کہیں مانیٹر کی مسلسل بیپ انسان کو یاد دلاتی کہ زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی صرف چند لمحوں کا ہوتا ہے۔ نرسنگ طالب علم عرفات جب اپنی شام کی ڈیوٹی کے لیے وارڈ میں داخل ہوا تو اسے حسبِ معمول دوڑتے قدم، سفید یونیفارم، دوائیوں کی خوشبو اور انسانی درد کے بے شمار چہرے دکھائی دیئے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ رات اس کی زندگی کی سب سے بڑی درسگاہ بننے والی ہے۔
آفرین ایک ضعیف مریض کی کینولیشن کر رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں میں غیر معمولی مہارت تھی مگر آنکھوں میں تھکن۔ اس کی اپنی ماں کئی مہینوں سے بیمار تھی مگر وہ روز دوسروں کی ماؤں اور باپوں کی خدمت کے لیے حاضر رہتی تھی۔ رقعہ ایک بچے کا بلڈ سیمپل لے رہی تھی۔ اس کا پانچ سالہ بیٹا روز رات فون کر کے پوچھتا تھا کہ امی آپ کب آئیں گی مگر وہ ہر بار یہی جواب دیتی جلد آ جاؤں گی بیٹا۔ صوبیہ خاموش طبع تھی مگر ایمرجنسی کی ہر مشکل گھڑی میں سب سے پہلے پہنچتی تھی۔ روبینہ کی آواز میں ایسی نرمی تھی کہ بعض مریض اس کی باتوں سے دوا سے زیادہ سکون محسوس کرتے تھے۔ پاکیزہ کو دو دن سے بخار تھا مگر وہ پھر بھی ایک بیمار بچے کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں رکھ رہی تھی۔ عرفات انہیں دیکھ کر سوچتا کہ دنیا اکثر ڈاکٹر کے نام یاد رکھتی ہے مگر ان خاموش فرشتوں کی قربانیوں کو کم ہی لوگ جانتے ہیں جو رات بھر جاگ کر دوسروں کے لئے دعا، تسلی اور زندگی کا سہارا بنتے ہیں۔
رات کے تقریباً آٹھ بجے ایک ایمبولینس ایمرجنسی کے سامنے آ کر رکی۔ اسٹریچر پر ایک ضعیف شخص لیٹا ہوا تھا۔ سفید داڑھی، جھریوں سے بھرا چہرہ اور آنکھوں میں برسوں کی تھکن۔ اس کا نام غلام نبی تھا۔ اسے بیڈ نمبر سات پر منتقل کیا گیا۔ فائل سے معلوم ہوا کہ اس کے تین بیٹے تھے۔ ایک دہلی میں اعلیٰ عہدے پر، دوسرا بنگلور میں انجینئر اور تیسرا دبئی میں ملازم۔ کاغذوں پر یہ ایک کامیاب خاندان تھا مگر حقیقت یہ تھی کہ اس وقت اس کے سرہانے بیٹھنے والا کوئی نہیں تھا۔ بستر کے برابر ایک کرسی رکھی گئی مگر وہ خالی رہی۔ غلام نبی بار بار دروازے کی طرف دیکھتا اور پھر خاموش ہو جاتا۔ اس کی آنکھوں میں ایسا انتظار تھا جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے تھے۔ عرفات نے نبض چیک کرتے ہوئے پوچھا بابا کچھ چاہیے۔ غلام نبی نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا نہیں بیٹا میں کسی کا انتظار کر رہا ہوں۔
اسی دوران ایک اور اسٹریچر وارڈ میں داخل ہوا۔ یہ شفیق احمد تھا، ایک مزدور، جو تعمیراتی کام کے دوران گر گیا تھا۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور اس کے ساتھ اس کی بوڑھی ماں فاطمہ تھی۔ اس کے کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں ایسی محبت تھی جو دنیا کی ہر دولت سے بڑی تھی۔ روبینہ نے فوراً کینولیشن کی، رافیہ کوثر نے بلڈ سیمپل لیا، پاکیزہ نے آکسیجن لگائی اور عرفات نے ECG کے لیے تیاری کی۔ فاطمہ مسلسل اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑے دعائیں مانگ رہی تھی۔ عرفات نے ایک لمحے کے لیے فاطمہ کو دیکھا اور پھر غلام نبی کو۔ ایک غریب تھی مگر اکیلی نہیں تھی، دوسرا دولت مند اولاد کا باپ تھا مگر تنہا تھا۔ اس ایک منظر میں زندگی کا پورا فلسفہ پوشیدہ تھا۔
رات گہری ہونے لگی۔ باہر بارش تیز ہو چکی تھی۔ ایمرجنسی میں ایک نوجوان کو شدید پینک اٹیک کی حالت میں لایا گیا۔ اس کے والد پریشانی سے بار بار کہہ رہے تھے، یہ ہمیشہ پڑھائی میں سب سے آگے رہا مگر شاید ہم کبھی اس کے دل کی حالت نہ سمجھ سکے۔ نوجوان کی آنکھوں میں خوف تھا، ایسا خوف جو کسی بیماری سے نہیں بلکہ مستقبل، بے روزگاری اور مسلسل مقابلے کی دوڑ سے پیدا ہوتا ہے۔ عرفات نے محسوس کیا کہ آج کے دور میں جسمانی بیماریوں سے زیادہ ذہنی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ لوگ مسکراتے ہیں، تصویریں لگاتے ہیں، کامیاب نظر آتے ہیں مگر اندر سے ٹوٹ چکے ہوتے ہیں۔
رات کے گیارہ بجے ایک غریب شخص دوائیوں کا نسخہ ہاتھ میں لیے فارمیسی کے باہر کھڑا تھا۔ اس کی جیب میں اتنے پیسے نہیں تھے کہ تمام دوائیاں خرید سکے۔ وہ بار بار نسخے کو دیکھتا اور پھر جیب ٹٹولتا۔ رافیہ خاموشی سے اس کے پاس گئی اور اپنی جیب سے کچھ رقم نکال کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔ وہ شخص کچھ کہنا چاہتا تھا مگر رافیہ واپس مڑ چکی تھی۔ عرفات نے یہ منظر دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے مگر وہ سوشل میڈیا پر نہیں، ایسے خاموش لمحوں میں سانس لیتی ہے۔
رات کے بارہ بجے عرفات نے موبائل کھولا۔ ایک تصویر اس کی نظروں کے سامنے آئی۔ تصویر میں غلام نبی اپنے ایک بیٹے کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔ تصویر کے نیچے لکھا تھا کہ میرے والد میری طاقت، میرا فخر اور میری زندگی ہیں۔ ہزاروں لوگ اس پوسٹ کو پسند کر رہے تھے۔ عرفات نے تصویر دیکھی پھر بیڈ نمبر سات کی طرف دیکھا جہاں غلام نبی تنہا لیٹا دروازے کو تک رہا تھا۔ اسے لگا جیسے آج کا زمانہ محبت دکھانے کا زمانہ بن گیا ہے، محبت نبھانے کا نہیں۔
رات کے دو بجے غلام نبی نے عرفات کو قریب بلایا۔ وارڈ خاموش تھا۔ بارش کھڑکیوں سے ٹکرا رہی تھی اور خالی کرسی اپنی جگہ خاموش کھڑی تھی۔ غلام نبی نے دھیمی آواز میں کہا کہ بیٹا میں نے اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کے لیے گزاری۔ زمین بیچی، قرض لیا، خود پرانے کپڑے پہنے مگر انہیں نئے دلائے۔ میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں ان کے لیے وقت مانگوں گا اور وہ بھی نہ ملے گا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے خالی کرسی کی طرف دیکھا اور بولا کہ انسان بڑھاپے میں دولت نہیں مانگتا صرف کسی اپنے کی موجودگی مانگتا ہے۔
رات کے آخری پہر ایک VIP مریض کے آنے کی اطلاع ملی۔ اچانک کئی لوگ متحرک ہو گئے۔ عرفات نے دیکھا کہ ایک طرف اثر و رسوخ کا شور تھا اور دوسری طرف بشیر نامی وارڈ بوائے خاموشی سے ایک غریب مریض کا بستر درست کر رہا تھا۔ بشیر کو کوئی نہیں جانتا تھا، کوئی اس کی تعریف نہیں کرتا تھا مگر وہ ہر روز درجنوں مریضوں کی خاموش خدمت کرتا تھا۔ عرفات کو لگا کہ معاشرے کے اصل ستون اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نام کہیں نہیں لکھے جاتے۔
فجر سے کچھ پہلے شفیق کی حالت بہتر ہونے لگی۔ فاطمہ نے سجدہ شکر ادا کیا۔ دوسری طرف غلام نبی کی سانسیں کمزور ہو رہی تھیں۔ اسی لمحے موبائل بجا۔ دبئی سے اس کے بیٹے کی ویڈیو کال تھی۔ عرفات نے جلدی سے موبائل اس کے سامنے کیا مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ غلام نبی نے ایک بار دروازے کی طرف دیکھا پھر خالی کرسی پر نظریں جمائیں اور آہستہ سے کہا کہ میں انتظار کرتا رہا… اس کے بعد اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ مانیٹر کی آواز بدل گئی۔ وارڈ میں ایک خاموشی اتر آئی، ایسی خاموشی جو کبھی کبھی چیخوں سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔
فجر کی اذان بلند ہوئی۔ بارش رک چکی تھی۔ کھڑکیوں سے سورج کی پہلی کرن اندر داخل ہو رہی تھی۔ شفیق کی ماں شکر کے آنسو بہا رہی تھی، نرسیں نئی شفٹ کی تیاری کر رہی تھیں، نئے مریض آ رہے تھے اور زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر عرفات پہلے والا عرفات نہیں رہا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ میں یہاں بیماریوں کا علاج سیکھنے آیا تھا مگر میں نے جانا کہ اصل بیماریاں صرف جسموں میں نہیں ہوتیں۔ کچھ بیماریاں تنہائی میں پیدا ہوتی ہیں، کچھ خود غرضی میں، کچھ بے حسی میں اور کچھ اس معاشرے میں جو کامیابی تو سکھاتا ہے مگر اپنوں کے لیے وقت نکالنا نہیں سکھاتا۔
صبح سات بجے بشیر نے بیڈ نمبر سات کی چادر بدل دی۔ نیا مریض آنے والا تھا۔ مگر بستر کے برابر رکھی ہوئی کرسی اب بھی خالی تھی۔ اس نے چند لمحے اس کرسی کو دیکھا پھر آہستہ سے دیوار کے ساتھ لگا دیا۔ اسی وقت عرفات کے موبائل پر ایک نئی پوسٹ نمودار ہوئی کہ “Miss You Dad”.
عرفات نے چند لمحے اس جملے کو دیکھا، پھر خاموشی سے موبائل بند کر دیا۔ باہر سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو چکا تھا مگر اس کے دل میں ایک سوال ہمیشہ کے لیے زندہ ہو چکا تھا۔ اگر انسان اپنی کامیابیوں کی دوڑ میں اپنے والدین، اپنے رشتے اور اپنی انسانیت کھو دے تو آخر وہ جیتتا کیا ہے۔
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر ،موبائل نمبر؛9622881110