گرفتاریوں اورمکانات گرانے سے حالات میں بہتری نہیں آئے گی:وزیر اعلیٰ
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو مرکزی وزیر جے پی نڈا کے جموں و کشمیر میں ایس ایس بی پیپر لیک سے ان کی حکومت کو جوڑنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ 2024میں ان کی حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے بہت پہلے 2022میں ایل جی انتظامیہ کے تحت ہوا تھا۔عبداللہ بدھ کو ایک پریس کانفرنس کے دوران نڈا کے ریمارکس کا جواب دے رہے تھے، جہاں مرکزی وزیر صحت نے این سی اور کانگریس پر پیپر لیک اسکینڈلوں پر خاموش رہنے کا الزام لگایا۔عبداللہ نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، “آپ نڈاجی SSB پیپر لیک ہونے کے بارے میں بالکل درست ہیں لیکن آپ نے تاریخ غلط لکھی ہے۔ یہ 2022تھی۔”انہوں نے کہا”حکومت این سی اور کانگریس کی نہیں تھی، یہ لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں حکومت تھی لیکن اس ناکامی کو یاد دلانے کے لئے آپ کا شکریہ۔ اس میں جموں و کشمیرہائی کورٹ کے مشاہدات اور احکامات شامل تھے،” ۔چیف منسٹر نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے حکم کا ایک حصہ بھی منسلک کیا، جس میں لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی)کی قیادت والی انتظامیہ کو جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ کے طرز عمل کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایات دی گئی تھیں۔عبداللہ نے کہا، “ہمیں نہیں معلوم کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی یا اس کی رپورٹ کا کیا ہوا ہے۔ شاید آپ اسے اپنی اگلی پریس کانفرنس میں ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں،” ۔2022 میں پیپر لیک ہونے اور بدعنوانی کے بڑے پیمانے پر الزامات کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کو ایس ایس آر بی کے ذریعہ کئی آسامیوں ، بشمول سب انسپکٹرز، جونیئر انجینئرز، اور فنانس اکائونٹس اسسٹنٹ کے لئے منعقد کئے گئے بھرتی امتحانات کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا گیا۔انتظامیہ کو کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ کروانے کے لیے ممبئی کی اپٹیک لمیٹڈ کی خدمات حاصل کرنے پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالانکہ کمپنی کو متعدد ریاستی حکومتوں کی جانب سے مبینہ بدعنوانیوں پر بلیک لسٹ کیے جانے کی تاریخ ہے۔
مکانات گرانا
وزیر اعلیٰ نے جمعرات کو اننت ناگ حملے جس میں بدھ کے روز ایک پولیس اہلکار کی موت ہو گئی تھی، بے جا انتقامی کارروائی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ساتھ لیے بغیر تشدد کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا”میں پولیس کے غصے کو سمجھتا ہوں، لیکن سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ اس قسم کی سمری کارروائی نہ کی جائے‘‘۔عبداللہ نے نامہ نگاروں کو بتایا، “ہم نے پہلگام حملے (اپریل 2025 میں) کے بعد ایسی ہی صورتحال دیکھی، جب کچھ لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کر دیا گیا، اس وقت، مجھے اس رجحان کو روکنے کے لیے مرکزی حکومت سے بات کرنی پڑی،” ۔عبداللہ نے ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعدبجبہاڑہ میں دو ملی ٹینٹوں کے مکانات کو مسمار کرنے کے بعد یہ ریمارکس دیے۔حکام نے بتایا کہ بدھ-جمعرات کی درمیانی شب عادل ٹھوکر اور ہارون رشید گنائی، دونوں سرگرم ملی ٹینٹوں کے مکانات کو زمین بوس کر دیا گیا۔عبداللہ نے کہا کہ پچھلے سال پہلگام حملے کی تحقیقات کے دوران، “یہ پتہ چلا کہ ایک بھی مقامی ملوث نہیں تھا اور تمام حملہ آور باہر سے آئے تھے”۔انہوں نے کہا، “گھروں کو گرانے یا ہزاروں گرفتار کرنے سے صورت حال میں بہتری نہیں آئے گی؛ درحقیقت اس سے صورتحال مزید خراب ہوگی۔”عبداللہ نے کہا کہ ان کے تجربے کی بنیاد پر عوام کو ساتھ لیے بغیر تشدد کے چکر کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔”ہم پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کا استعمال کرتے ہوئے ایک خاص مقام تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن اصل انجام تب ہی آئے گا جب عام لوگ اس طرح کے تشدد کے خلاف ایک ساتھ کھڑے ہوں گے۔عبداللہ نے کہا، “پہلگام کے واقعے کے بعد، عام لوگوں نے اپنے غصے کا اظہار کیا اور حملے کے خلاف آواز اٹھائی، آج بھی لوگ اس بات پر ناراض ہیں کہ کس طرح ہیڈ کانسٹیبل عاشق کو بے دردی سے مارا گیا،” ۔بدھ کے حملے کے بعد پوری وادی کشمیر میں ایک ہزار سے زیادہ اوور گرائونڈ ورکرزکی حراست کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ایسی رپورٹیں آتی ہیں تو لوگوں کا غصہ نظام کے خلاف ہو جاتا ہے۔عبداللہ نے کہا”مجھے امید ہے کہ ہم اس لڑائی میں اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، تب ہی ہم حقیقی کامیابی حاصل کریں گے،” ۔عاشق حسین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی کہا کہ “مبینہ” دہشت گردوں کے مکانات کو مسمار کرنا “اجتماعی سزا” ہے جس کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔محبوبہ نے X پر ایک پوسٹ میں کہا، “ڈیوٹی کے دوران ایک پولس افسر کا قتل ایک گھنانا اور قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لینا اور دو مبینہ عسکریت پسندوں کے خاندانوں کے گھروں کو مسمار کرنا اجتماعی سزا کے مترادف ہے جس کی جمہوریت میں کوئی جگہ نہیں ہے”۔