تہران//ایران میں انتخابی مہم کے آخری روز3امیدوار صدارتی انتخابات سے دست بردار ہوگئے، جس کے بعد باقی 5امیدواروں میں سخت مقابلے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ایران میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے 18 جون کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دست بردار ہونے والے محسن مہر علی زادہ کو اصلاح پسند تصور کیا جاتا ہے، جب کہ پارلیمان کے تحقیقی مرکز کے سربراہ علی رضا زاکانی قدامت پسند نظریات کے حامل ہیں۔ 64 سالہ مہر علی زادہ کی دست برداری کا فائدہ ایران کے مرکزی بینک کے سابق سربراہ عبدالناصر ہمتی کو ہوگا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عبدالناصر ہمتی اپنے حریف اور ایرانی عدلیہ کے قدامت پسند سربراہ ابراہیم رئیسی سے پیچھے ہیں۔ رئیسی کے بارے میں عمومی خیال ہے کہ انہیں صدر بنانے کے لیے رہبر اعلیٰ خامنہ ای نے بہت پہلے سے تیاری شروع کردی تھی۔ دست بردار ہونے والے دوسرے امیدوار زاکانی بھی ایک قدامت پسند امیدوار ہیں۔ ماضی میں 2بار صدارتی انتخابات کے لیے ان کی نامزدگی مسترد کی جاچکی ہے۔