ایجنسیز
واشنگٹن+تہران// امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے پارٹی حامیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ایران جنگ جلد ختم ہوجائے گی میں بس ایک ہفتہ بھی لگ سکتا ہے۔ٹرمپ نے کہاکہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں رکھنے دے سکتے ۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 24 گھنٹوں میں مثبت مذاکرات ہوئے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ہم ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔ادھرتہران نے امریکی امن کی تجویز پر نظرثانی کرتے ہوئے ‘بات چیت’ کا مطالبہ کیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ایک کال میں “مذاکرات اور سفارت کاری” پر زور دیا۔ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے ساتھ تقریباً ڈھائی گھنٹے کی ملاقات کی۔ پیزشکیان نے خامنہ ای کے “گہری قریبی نقطہ نظر” کی تعریف کی، جو مارچ کے اوائل میں اپنے والد اور پیشرو کی اسرائیلی فضائی حملوں میں موت کے بعد اپنی تقرری کے بعد سے عوام میں نہیں دیکھے گئے۔ادھرپاکستان کے وزیر اعظم اور ان کے قطری ہم منصب نے ایک فون کال کے دوران “علاقائی صورتحال” پر تبادلہ خیال کیا جہاں دونوں رہنماں نے “خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے جاری کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا” ۔ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں، کوئی بھی ہمیں ایک خراب معاہدے پر جلد بازی میں مجبور نہیں کر سکتا۔ ترجمان کا کہنا تھا صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی عوام کے لیے ایک اچھی ڈیل کرنے جا رہے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق توقع ہے کہ ایران آج اپنا جواب ثالثوں کے حوالے کرے گا۔اس سے قبل ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران امریکی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کو اپنے موقف سے آگاہ کرے گا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود رہ گئی ہیں۔ادھرایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو مکمل معاونت فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔ایران کا کہنا ہے کہ اس کی بندرگاہیں آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر سمندری راستوں میں تجارتی جہازوں کو بحری خدمات اور معاونت فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ ملک کی بندرگاہیں تجارتی جہازوں کو بحری خدمات، تکنیکی معاونت اور طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔