بلال فرقانی
سرینگر//ایران میں جاری جنگی صورتحال کے باعث وہاں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ، زائرین اور دیگر شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ایران میں کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد تاحال محصور ہے، جبکہ وادی میں موجود ان کے اہلِ خانہ شدید ذہنی اضطراب اور بے چینی کا شکار ہیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایران میں کشمیری طلبہ کی مجموعی تعداد دو ہزار کے قریب بتائی جا رہی ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد مختلف شہروں بالخصوص تہران میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ حالیہ فضائی حملوں اور سیکورٹی صورتحال کے بعد ان طلبہ کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اس تناظر میں جموں و کشمیر سٹوڈنٹس یونین کے قومی کنوینرنا صرکھوہامی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ ایران میں کشمیری طلبہ کی تعداد 1900 سے 2000 کے درمیان ہے اور اب تک تقریباً 900 بحفاظت کشمیر واپس پہنچ چکے ہیں، تاہم 1000 سے 1100 طلبہ اب بھی ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ناصر کے مطابق ایران میں پھنسے افراد میں صرف طلبہ ہی شامل نہیں بلکہ زائرین اور وہ کشمیری بھی شامل ہیں جو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے ایران گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے علاوہ خلیجی ممالک میں بھی کشمیریوں کی بڑی تعداد مقیم ہے، جن میں زیادہ تر کام وکاج ، طبی ماہرین، یونیورسٹی اساتذہ اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والے افراد شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد ہزاروں میں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کسی باضابطہ انخلا کے منصوبے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے اور کم از کم آئندہ چار سے پانچ دنوں تک فوری انخلاکے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم سفارتی سطح پرمنتقلی اور دیگر متبادل انتظامات کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کے اہلِ خانہ نے پیر کے روز سرینگر کے بمنہ علاقے میں جمع ہو کر حکومت ہند سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ والدین نے کہا کہ ان کے بچے ایسے علاقوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں مسلسل حملے ہو رہے ہیں، جس سے ان کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔والدین نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر سے مطالبہ کیا کہ کشمیری طلبہ اور زائرین کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔