ریاسی، اگست20//ریاسی میں لیفٹنٹ گورنر سے اپنی پارٹی کے لیڈران ممتاز خان اور اعجاز احمد خان ملاقی ہوئے اور ریاستی درجہ کی بحالی اور کئی مطالبات اجاگر کئے۔ایک بیان میں ممتاز خان نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے ضلع ریاسی میں ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی کے علاوہ پروجیکٹوں سے متعلق عوامی مطالبات کو بھی اُجاگر کیا۔ انہوں نے نندولی اور گلاب گڑھ میں د و چھوٹے پن بجلی پروجیکٹوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپریس ہائی وے کٹرہ کو گلاب گڑھ کوسیسر کے ذریعے کشمیر لے جایاجائے۔ علاوہ ازیں انہوں نے مہور میں ڈگری کالج، مہور میں کیندریہ ودیالیہ، لڈھ سنگر ی ، شجرو، شیرگلی، جج بگالی وغیرہ میںجموں وکشمیر بینک شاخ، سنگر ی ، چسانہ اور مہور میں ریسیونگ اسٹیشن ، مہور ، چسانہ اور سنگری کو میونسپلٹی کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اپنے مطالبات پر مبنی ایک تفصیلی یادداشت بھی ایل جی کو پیش کی جس میں مہور میں بس اڈہ تعمیر کرنے کی بھی مانگ کی گئی ہے۔ادھر اعجاز احمد خان نے مطالبہ کیاکہ ایکسپرس ہائی وے کی کٹرہ سے کشمیر براستہ سلال اور گلاب گڑھ توسیع کی جائے ، اناس دوم دھرماڑی پن بجلی پروجیکٹ کا کام شروع کیاجائے، بڈا میں ہوا توانائی پروجیکٹ کی تعمیر، ڈگری کالج دھرماڑی اور گول کی تکمیل، دھرماڑی اور گول میں اسٹیڈیم کے قیام کی مانگ کی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایاکہ ضلع میں سیاحت کے وسیع ترامکانات موجود ہیںجن کو سیاحتی نقشے پر لانے کے لئے ترقی دی جانی چاہئے۔ انہوں نے سلال، ڈگن ٹاپ ۔گول کو ٹورسٹ سرکٹ بنانے ، ماسٹروں، ڈاکٹروں اور لیکچرروں کی خالی آسامیاں پر کرنے کے بھی مطالبات کئے۔کسانوں اور دیہات میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے پی ایم جی ایس وائی اور تعمیرات عامہ کے تحت حاصل کی گئی اراضی کا معاوضہ دینے کی مانگ کی اور کہاکہ زمین سڑک ودیگر ترقیاتی سرگرمیوں کو شروع کرنے کے لئے لی گئی تھی لیکن ابھی تک لوگوں کو معاوضہ نہیں ملا۔لیفٹیننٹ گورنرنے بغور اُن کے مسائل ومطالبات کو سننے کے بعد یقین دلایاکہ اِ ن کے ازالہ کو یقینی بنایاجائے گا۔