مقصوداحمدضیائی
بدلتے ہوئے موسمیاتی تغیرات اور انسانی لاپرواہیوں کے نتیجے میں جب تمدنی زندگی مفلوج ہو جائے، تو مادی اسباب کے ساتھ ساتھ اپنے باطنی اعمال کا محاسبہ کرنا زندہ معاشروں کا شیوہ ہوتا ہے۔ زیرِ نظر کالم میں ہمارے خطہ میں موجودہ مخدوش سیلابی صورتحال کے پس منظر میں انہی انتظامی لغزشوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو اس کٹھن گھڑی میں ہمارا اولین فریضہ ہیں۔اس وقت ہمارے پورے علاقہ میں شدید طوفانی بارشوں کی وجہ سے جو ہولناک سیلابی صورتحال بنی ہوئی ہے، جہاں دریاؤں اور ندی نالوں میں آنے والی طغیانی اور پہاڑی تودے گرنے کی وجہ سے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول ہے اور جانی و مالی نقصان کی دردناک خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں، یہ ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش اور اصلاحِ نفس کا وقت ہے۔ اگر ہم سچے دل سے اس تباہی اور بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کا جائزہ لیں، تو ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ندی نالوں اور دریاؤں کے قدرتی راستوں کا خیال رکھے بغیر ان کے بالکل کناروں پر لاپرواہی سے مکانات اور دکانیں کھڑی کرنا بھی ہماری اپنی انتظامی اور اخلاقی غلطی ہے؛ کیونکہ تعمیرات کے وقت اگر پانی کے پرانے بہاؤ اور قدرتی گزرگاہوں کا دھیان نہ رکھا جائے تو یہی انسانی بے احتیاطی برسات کے دنوں میں ہماری اپنی بربادی کا سبب بنتی ہے، اس لیے ہمیں اپنی اس روش کو سدھارنا ہوگا اور آئندہ کے لیے تعمیرات کے وقت ان قدرتی راستوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ ناگہانی مصائب اور ان مشکل حالات کے وقت اگر ہم ربِ کریم کے حکم اور قرآنِ پاک کی آیات پر غور کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ خشکی اور تری میں جو بھی بگاڑ یا آفت آتی ہے، وہ اصل میں انسانوں کے اپنے برے اعمال، گناہوں اور نافرمانیوں کا ہی نتیجہ ہوتی ہے، جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے کہ خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے سبب، تاکہ ربِ کریم انسانوں کو ان کے کچھ اعمال کا مزا چکھائے اور وہ غفلت سے بیدار ہو کر سچائی کی طرف لوٹ آئیں۔
یہ قدرتی آفتیں بظاہر صرف موسم کا بدلنا نظر آتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ ہم سب کے لیے بیداری کا ایک تازیانہ ہیں تاکہ ہم اپنے مادی اسباب کا گھمنڈ چھوڑ کر قدرت کی طاقت کو پہچانیں اور اپنے اندر پھیلی ہوئی سماجی برائیوں، ناانصافیوں اور اخلاقی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ لہٰذا، اس نازک اور کٹھن گھڑی میں ہم سب کا یہ اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے کہ ہم دنیاوی سہاروں پر بھروسہ کرنے یا ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے اپنے گناہوں کی سچی توبہ کریں، ربِ کریم کے سامنے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں اور خلوصِ دل کے ساتھ ‘ ربِ کریم کی طرف رجوع کریں، کیونکہ یہی راستہ ہر مصیبت کو ٹالنے اور ربِ کریم کی رحمت پانے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کڑے وقت میں جہاں ایک طرف توبہ و استغفار ضروری ہے، وہیں دوسری طرف سماجی سطح پر دکھی انسانیت کی دستگیری بھی ہمارا اولین فریضہ ہے؛ چنانچہ ملی اور فلاحی کام کرنے والے تمام افراد، رفاہی اداروں اور خاص طور پر معاشرے کے صاحبِ ثروت احباب پر یہ لازم ہے کہ وہ آگے آئیں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے ان پریشان حال بھائی بہنوں کی اخلاقی اور مالی طور پر بھرپور مدد کریں، کیونکہ مصیبت میں گھرے لوگوں کے کام آنا ہی حقیقی بندگی ہے۔ خلاصہ یہ کہ ہمیں اپنی زبان، قلم اور عمل کے ذریعے معاشرے میں نفرتوں کو مٹانا چاہیے، الفت و محبت کو فروغ دینا چاہیے، سیلاب زدگان کی بڑھ چڑھ کر امداد کرنی چاہیے اور اپنی زندگی کے ہر معاملے میں عقل و تدبر سے کام لینا چاہیے؛ پس بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہمارے خطہ کے حالات پر رحم فرمائے، تمام متاثرین کی خزانہ غیب سے مدد فرمائے، سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں سچی توبہ کے ساتھ ساتھ اپنی زندگیوں کی اصلاح کرنے اور دکھی دلوں کا سہارا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔