بے شک شادی انسانی معاشرے کی ایک بنیادی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ ہے بلکہ ایک پاکیزہ، باوقار اور متوازن معاشرتی نظام کی بنیاد بھی ہے۔ ہر مذہب اور ہر تہذیب نے اس اہم عمل کے لئے اپنے اپنے اصول و ضوابط اور رسوم مقرر کئے ہیں۔ ان رسوم کی نوعیت اور حدود میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بعض معاشروں میں یہ رسوم سادگی، فطرت اور اخلاقی اقدار کے قریب ہیں، جب کہ بعض میں یہ حد سے بڑھی ہوئی پیچیدگیوں، فضول اخراجات اور غیر ضروری تکلفات کا مجموعہ بن چکی ہیں۔ اسلام نے شادی کو ایک مقدّس عبادت اور سماجی معاہدہ ہی نہیں بلکہ دو افراد، دو خاندانوں اور بسا اوقات دو نسلوں کے درمیان ایک ایساپاکیزہ رشتہ قرار دیاہے، جس کی بنیاد محبت، رحمت اور ذمّہ داری پر رکھی گئی ہےاور اس رشتےکو آسان، باوقار اور بابرکت بنانے کے لیے واضح اصول عطا کئے ہیں تاکہ معاشرہ پاکیزگی، استحکام اور اخلاقی توازن کا مظہر بن سکے۔ہمارے کشمیری مسلم معاشرے میں بھی ایک زمانہ ایسا گزرا ہے، جب شادی بیاہ نہایت سادگی، وقار اور اعتدال کے ساتھ انجام پاتے تھے۔ اُس زمانے میں نہ طویل رسومات کا رواج تھا اور نہ ہی بے جا نمود و نمائش کا رُجحان۔ نکاح عموماً گھر میں سادگی سے انجام پاتا، چند قریبی عزیز و اقارب شریک ہوتے، مہر مقرر کیا جاتا اور اس کے بعد ایک مختصر اور سادہ ولیمہ کر دیا جاتا۔ اس سارے عمل میں اخلاص، محبت اور برکت کو اصل اہمیت حاصل ہوتی تھی، نہ کہ ظاہری شان و شوکت کو۔ اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا تھا کہ والدین اپنی حیثیت کے مطابق سادہ انداز میں بیٹی کو رخصت کر دیتے تھے اور اسے باعثِ عزّت و وقار سمجھا جاتا تھا، نہ کہ کسی کمی یا محرومی کا نشان۔ نہ قرض لینے کی نوبت آتی تھی اور نہ ہی شادی ایک معاشی بوجھ بنتی تھی۔ شادی کی یہ تقریبات خوشی اور آسانی کا ذریعہ ہوتی تھیںاورکسی پریشانی اور دُکھ کا سبب نہیں بنتی تھیں۔لیکن افسوس کہ آج ہمارامعاشرہ، اس سادہ اور بابرکت نظام سے بہت دور جا چکا ہے۔ شادی کو ایک مشکل ترین مرحلہ بنا دیا گیا ہے۔ رشتہ طے ہونے سے لے کر رخصتی تک ہر قدم پر ایسی رسومات شامل کر دی گئی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے،جبکہ بعض مسلمانوں کے نزدیک یہ رسمیںمعاشرتی وقار اور عزت کا معیار بن چکی ہیں
مہندی، بارات، جہیزاور دیگر بے شمار تقاریب ایک ایسا سلسلہ بن چکی ہیں جس میں وقت، دولت اور توانائی کا بے دریغ ضیاع ہوتا ہے۔ان غیر ضروری اخراجات اور رسومات کا ایک سنگین نتیجہ تاخیرِ نکاح کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔ جب سےشادی کو حد سے زیادہ مہنگا اور پیچیدہ بنا دیاگیا ہے تو بہت سے نوجوان صرف مالی مسائل کی وجہ سے نکاح کو مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ اس تاخیر کے نتیجے میں نہ صرف ذہنی و جذباتی مسائل جنم لیتے ہیں بلکہ معاشرتی بے راہ روی اور اخلاقی بگاڑ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔چاہئے تو یہ تھا کہ ہم سادہ اور بابرکت طریقہ سےشادی کو اپنا نمونہ بناتے، فضول رسومات سے اجتناب کرتے اور اسے ایک بوجھ کے بجائے ایک خوشگوار اور بابرکت عمل بناتے۔لیکن ہمارے یہاں توبالکل اسکے برعکس ہورہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور معاشرے کے ذمّہ دار افراد نوجوانوں کی رہنمائی کریں اور اُنہیں اس بات کا شعور دیں کہ اصل خوشی سادگی، اخلاص اور برکت میں ہے، نہ کہ نمود و نمائش اور فضول خرچی میں۔یاد رکھیں!اگر ہم نے آج بھی اپنی اصلاح نہ کی تو یہ رسومات نہ صرف ہماری معیشت کو کمزور کرتی رہیں گی بلکہ ہماری دینی و اخلاقی بنیادوں کو بھی مزیدکھوکھلا کرتی جائیں گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی اقدار اور اپنے دین کی طرف رجوع کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو سادگی، پاکیزگی اور اعتدال کا مظہر ہو۔اگر ہم واقعی ایک متوازن، پاکیزہ اور باوقار معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں شادی بیاہ کے معاملے میں سادگی، اعتدال اور دینی تعلیمات کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔ فضول رسومات، بے جا اخراجات اور غیر اسلامی روایات سے اجتناب کرتے ہوئے ہمیں نکاح کو آسان اور بابرکت بنانے کی اجتماعی کوشش کرنی چاہیے۔