ماجد مجید
پہلے ہم سکول میں درس و تدریس کے ذریعے بچوں کو نور سے روشناس کرتے رہے ،پھر ہمارا تقرر جامعہ کے کسی شعبہ میں ہوا اور سبکدوشی تک اپنے پیشے سے منسلک ہزاروں شاگردوں کو مطالعے سے روشناس کرتے رہے اور سبکدوشی کے بعد بھی شاگرد رابطے میں رہ کر علم کے منازل طے کرتے رہے ۔عمر جب بڑھتی ہے، استخواں بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔ایسے میں ایک بار میری رفیقہ حیات نے اپنی آنکھوں میں دُھندلے پن کی شکایت کی ،نزدیکی شفا خانہ کے طبیب کو گئے اس نے امراض چشم کے طبیب کو جانے کا مشورہ دیا۔ کئی شفاخانوں کو گئے لیکن کسی بھی ماہر امراض چشم سے رابطہ نہ ہونے پر نجی چشم امراض شفاخانہ کو گئے، رجسٹریشن کاونٹر پر مریضوں کی لمبی قطار کے ساتھ ہم بھی جڑ گئے، پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ کہیں سے کوئی تیس بتیس سالہ لڑکی نمودار ہوئی اور مجھ سے یوں مودبانہ انداز میں مخاطب ہوئی’’ sir ! آپ ! یہاں خیریت!‘‘ لڑکی نے مسکرانہ اور ملتجیانہ انداز میں کہا۔’’بیٹا !میں نے آپ کو پہچانا نہیں!کون ہو تم؟‘‘۔’’ sir میں آپ کی سٹوڈنٹ ہوں آپ نے مجھے کالج میں پڑھایا ہے‘‘۔ اچھا یہ کب کی بات ہے کیونکہ میں پھر جامعہ میں تعینات ہوا اور سبکدوشی تک وہاں روشنی پھیلاتا رہا اور تم یہاں کیا کرتی ہو،’’ sir میں اسی شفاخانہ میں تعینات ہوچکی ہوں اور میں نے آپ کو خفیہ کیمرے میں دیکھا اور دیدار کے لئے یہاں آگئی ۔ طالبہ نے وضاحت سے کہا ۔‘‘جی بیٹا میری رفیقہ حیات کو دُھندلا سا دکھ رہا ہے، طبیب کو گئے تو اس نے ماہر امراض چشم کو دکھانے کا مشورہ دیا، اسی لئے یہاں آگئے، لیکن کاونٹر پر پہنچتے پہنچتے دیر ہوجائے گی ‘‘ ہم نے طالبہ سے کہا اور وہ بیج قطار میں سے ہمیں نکال کر سیدھے کاونٹر پر لے آئی اور قطار میں کھڑے لوگوں سے اس طرح مخاطب ہوئی ،’’ معاف کیجئے گا یہ میرے استاد ہیں، انہی کی بدولت میں آج یہاں اس عہدے پر تعینات ہوں ۔‘‘بیٹا!ہم دونوں میاں بیوی ان لوگوں کا حق مارنے نہیں آئے ہیں ،پہلے ان کی باری ہے ،میں نے کہا تو سب لوگ ایک ساتھ بولے ’’استاد محترم! ہم نے بھی استادوں سے ہی پڑھا ہے، خدا اور والدین کے بعد اُستاد کا رتبہ عظیم ہے، استاد بگڑے قوم کا معمار ہوتا ہے، جہاں استاد کا پائوں وہاں شاگرد کا سَر ہو، تو بھی کم ‘‘سب بولے اور تعظیماً ہمارے لئے راستہ نکالے۔ طالبہ نے ہمیں ماہر امراض چشم سے ملوایا ،ہمارا تعارف کرایا ،وہ بھی ہمارے احترام میں کچھ دیر کے لئے کھڑے ہوئے اور میری رفیقہ کی آنکھوں کا معائنہ کرکے چند دوائیاں اپنے کاونٹر سے نکالیں اور طریقہ استعمال بتاکے اپنے کمرے کے دروازے تک ساتھ آئے۔ جوں ہی ہم باہر آئے قطار میں کھڑے وہی لوگ ہماری رخصتی پر تعظیماًہمارے سامنے آئے اور ایک کے بعد ایک یوں کہنے لگا ’’استاد محترم! ہمیں بھی خدمت کا موقع دیجئے، ہم آپ کو اپنی گاڑی میں گھر پہنچائیں گے ۔‘‘ جی شکریہ سب سے پہلے آپ لوگوں نے میری باری کو زیادہ ترجیح دی اور دوسری بات یہ کہ باہر ہماری گاڑی انتظار میں ہے ‘‘ میں نے کہا اور کئی لوگ باہر گاڑی تک سر جھکاکے میرے ساتھ آگئے ،مجھے ان کو دیکھ کر اطمینان قلب حاصل ہوا اور اپنے پیشے پر فخر کرتے ہوئے راستہ بھر طالبہ اور قطار میں کھڑے لوگوں کے بہترین رویے پر یہی گنگناتا رہا ،’’اپنا تو کام ہے جلاتے رہیں چراغ‘‘پھر راستے میں چاہئے دوست یا دشمن کا گھر ملے۔ بہترین اُستاد معاشرے کا بہترین معمار ہوتا ہے اور کبھی بھی بے بس نہیں ہوتا۔
(ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی)