جب ماضی میں کرئہ جامدہ کی دو پلیٹوں کے درمیان تصادم ہوا تھا تو شکست وریخت کے عمل نے دنیا کی نا صرف بلند وبالا چوٹیو ں کو جنم دیا بلکہ آج دنیا کے نقشہ پر جو براعظم الگ الگ نظر آرہے ہیں تخلیقی طور پر صرف ایک ’’سپر براعظم‘‘ سے وجود میں آئی تھیں جسے ’’پن گئی‘‘ (Pangaea)کہا جاتا تھا۔ تقریباً 200ملین سال قبل ا س واحد براعظم نے حرکت کی اور دو حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔
جسے’’لوریشیا ‘‘(Laurasta) اور ’’گونڈوانالینڈ‘‘ (Glondwaaland) کا نام تجویز کیا گیا۔ ’’لوریشیا‘‘ شمالی امریکا، یوریشیا اور گرین لینڈ شامل تھے جب کہ گونڈوانالینڈ میں جنوبی امریکا، افریقا، بھارت، آسٹریلیا اور اینٹارٹیکا شامل تھے۔ علاوہ ازیں براعظم افریقا اور یوریشیا کے درمیان مزید حرکت کے نتیجے میں صحرائے عرب کا مغربی بازو بھی پہلے افریقا کا حصہ تھا۔ براعظمی حرکات کے دوران الگ ہوگیا، جس کے نتیجے میں ’’بحیرئہ قلزوم‘‘ وجود میں آیا، جس کے زیریں جانب عمل کٹائو کی وجہ سے محدب نما شکل پیدا ہوگئی ،جس نے’’ خلیج عدن‘‘ کو جنم دیا۔ ساتھ ہی صحرائے عرب کا مشرقی بازو براعظم ایشیاء یعنی ایران سے الگ ہوگیا۔ اس دوران سطح سمندر کے اُتاراور چڑھائو سے مغربی جانب کٹائو کے عمل سے ایک تنگ گزرگاہ کی تشکیل ہوتی گئی۔ ایران اور عرب کے اس خلاء کو بحیرہ عرب کے پانی نے پُر کر دیا۔ گویا یہ نظریہ درست ہے کہ براعظم اور بحراعظم ماضی میں ہر لحاظ (آب وہوا حیاتی و نباتاتی زندگی، براعظم کے حاشیوں کی بناوٹ) سے آپس میں بہت ہی گہرے ربط کو ظاہر کرتے ہیں، کیوں کہ اگردنیا کے نقشے کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ جنوبی امریکا اور افریقا کبھی ایک تھے، کیوںکہ اگر ان کے موجودہ نقشے کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے تو وہ ایک دوسرے میں ضم ہوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ایران، عرب اورافریقا، عرب کے درمیان بھی یہی کیفیت نظرآتی ہے۔ اگر عرب کو مشرقی افریقا کے قریب لایا جائے تو ’’بحیرئہ قلزم‘‘ اور’’خلیج عدن‘‘ درمیان سے اوجھل ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ایران کو عرب کے نزدیک لایا جائے تو خلیج فارس کا وجود غائب ہو تا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
بحراوقیانوس کے دونوں ساحلی کناروں کی پٹی بھی ایک دوسرے میں فٹ ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً کاٹنے کا چھوٹا سا مشینی آرا (Jigsare- Puzzle)۔بھارت اور جزیرہ ’’مڈا گاسکر‘‘ بھی ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ ابھی الگ ہیں لیکن قدیم زمانے میں منسلک تھے، کیوں کہ بھارت میں خالص دودھ دینے والے جانوروں کی مشابہت ’’مڈاگاسکر‘‘ میں موجود پرانی نسل سے ہوتی ہے۔انیسویں صدی کے دوران ’’پلیوزویک‘‘ (Paleozoic)عمرکے کوئلے کے ذخائر بھارت، جنوبی افریقا، آسٹریلیا اور جنوبی امریکا میں دریافت ہوئے ہیں، جس میں نباتاتی باقیات موجود پائے گئے ہیں’’جسے گلوسوپیٹریس‘‘ (Glossoptoris)کے نام سے شناخت کیاگیا ہے۔
انیسویں صدی کے بعد یہی نباتاتی نمونے ’’اینٹارٹیکا‘‘ میں دریافت ہوئے ،جس سے اس نظریہ کو مزید تقویت حاصل ہوتی ہے کہ قدیم دور میں براعظم اور بحراعظم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔آج سے صدیوں پہلے دو براعظموں کے درمیان ٹھیتس (Tethys) سمندر موجود تھا لیکن اب ان براعظموں کے درمیان الیائن اور ہمالیہ جیسے عظیم پہاڑی سلسلے موجود ہیں جو کرئہ ارض پر ممکنہ تصادم کی گواہی دیتے ہیں۔ جنوبی امریکا اور جنوبی افریقا میں ’’میسوساوزس‘‘ (Mesosaurus)نامی رینگنے والے جانور (Reptile) کے باقیات کی موجودگی ماضی میں براعظموں کے ایک ہونے کی پرزور حمایت کرتا ہے۔براعظموں میں لیسٹرو ساورس‘‘ (Lystrosaurus) اور ’’سائینوگناتھیس‘‘ کے باقیات قدیم دور ٹریبیسک(Triassic)کے چٹانوں میںموجودگی پلیٹوں کے حرکات کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ یہ خشکی پر ڈونل رٹرائی(Land dwelling reptile)کے ماہر رینگنے والے جانور ہوتے ہیں۔اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ سمندری کرسٹ براعظموں کی گہرائی (مینٹل) میں دائر ی کنویکشن پلیٹوں کی حرکت کا اہم محرک ہے۔جب براعظمی پلیٹ نےبحراعظم کی گہرائی تک رسائی حاصل کی تو سمندری فرش کا ایک ٹکڑا براعظمی پلیٹ کے اطراف پھنس کر قید ہو گیا۔ سمندری فرش کے یہ باقیات جسے اوفی لائٹ (Ophiolite)کہتے ہیں جب براعظمی پٹی کے اطراف پایاگیا تو اس نے قدیم سمندری اور خشکی کے پلیٹوں کے نظریئے کو بالکل درست قرار دیا۔
چنانچہ دورِ جدید میں دستیاب معلومات زیادہ جامع، مستند اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے بعد یہ نتائج حتمی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ تمام براعظم ماضی میں ایک تھے جو بعد میں پلیٹوں کی حرکات کی وجہ سے الگ الگ ہوگئے اور یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ یہ سلسلہ ابھی جاری ہے، کیوںکہ سائنس اور اہل ِ سائنس نے اس خیال کا اظہار کر دیا ہے کہ افریقا سست رفتاری کے ساتھ یورپ کی طرف سرک رہا ہے، جس سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ برسابرس میں اگر براعظم افریقا اور براعظم یورپ کی تشری پلیٹیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں تو دنیا کے نقشے پر کوہ ہمالہ اور بحرقلزم جیسے ایک اور پہاڑی سلسلے اور خلیج بالترتیب وجود میں آئیں گی۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ براعظم اور ہنوز حرکت میں ہیں،کیوں کہ جدید تحقیق سے اس امر کی وضاحت ہو جاتی ہے کہ زلزلہ، کوہ سازلی، ا ٓتش فشانی اور اسی قسم کے دو سرے تشری حرکات کی اصل وجہ پلیٹوں کی حرکات ہیں جو آج بھی یقیناً جاری ہے۔ اس حوالے سے ’’جزائر بحرالکاہل‘‘ (Circum Pacific Belt (وہ علاقہ ہے جہاں آتش فشانی، جزیرہ محراب، زیرِ آب آتش فشاں، کھائی اور ہاٹ اسپاٹی کا خصوصی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ ساحلی علاقے ہیں جن کے کناروں پر ایک طرف امریکا اور دوسری طرف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک آباد ہیں۔ جدید سائنسی و ٹیکنالوجی کی روشنی میں یہاں پر زیرِ زمین بحرالکاہل بلند کثافت کی وجہ سے یوریشین پلیٹ کے نیچے جاری ہے، جس سے کئی گرم مقام کی بھی تشکیل ہوئی ہے۔ ان علاقوں کے اطراف موجود ’’کراکٹائو‘‘ (Kara-Katao) آتش فشاں لاوا اُگلتا رہتا ہے، جس کی اصل وجہ زیرِ زمین پلیٹوں کی حرکات ہیں 1883 ءمیں اس قسم کی ایک حرکت سے انڈونیشیا کے اطراف سندامحراب (sunda arc)کی تشکیل ہوئی، جس سے 1000فیٹ چوڑا اور 3000فیٹ لمبا شگاف پیدا ہو گیا جو بندہ بحیرہ (Bunda Sca) سے جا ملا۔ اس علاقوں میں تازہ ترین پلیٹوں کی حرکات کی وجہ سے وہی علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ جہاں ماضی میں کئی بار ’’سونامی‘‘ یعنی سمندری زلزلے آچکے ہیں،کیوںکہ کرئہ ارض میں جہاں جہاں بھی پلیٹوں کی حرکات ہوتی ہیں تو نتیجے میں وہاںآتش فشاں کے طویل سلسلے پائے جاتے ہیں (جیسا کہ بحرالکاہل دائرے) امریکا میں جزیرہ نما الاسکا کے جنوب مغرب میں پھیلے ہوئے جزائر کے سلسلوں میں آتش فشاں پائے جاتے ہیں اور ان علاقوں کو ہر لمحہ سمندری زلزلے ’’سونامی‘‘(Tsunami)کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔کرئہ ارض کے ان علاقوں میں آتشی چٹان اور حرکات کے حوالے سے وسطی امریکا، جنوبی امریکا، چین، جزیرہ نما ملایا (ملائیشیا) نیوزی لینڈ، فلپائن، کوریا اور اس کے اطراف کے تمام ساحلی ممالک کے نام نمایاں ہیں۔26 دسمبر 2004 میں آنے والا ’’ایشیائی سونامی‘‘ شمال مغرب میں یوریشیں (Eurasian) پلیٹ، جنوب مغرب بحرالکاہل پلیٹ اور آسٹریلین پلیٹوں کی حرکات کے ردِعمل کا نتیجہ معلوم کیاگیا ہے۔
اگر ان تمام ممالک کو ارضیاتی نقشہ میں دیکھا جائے تو یہ تمام ریاستیں ’’اگن دائرہ(Ring of Fire)زد میں آتے ہیں۔ جہا ں پر اگن چٹانوں کی تشکیل اور پلیٹوں کی باہم حرکات کا جدید ترین مشاہدہ اور تجزیہ عالمی پیمانے پرمعلوم کیا جا رہاہے۔(ختم شُد)