اوڑی//سرحدی قصبہ اوڑی کے کمل کوٹ سیکٹر میں فوج نے بدھ کو اس بات کا دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک درانداز کو ہلاک کردیا۔لیکن بعد میں جب لاش کی لاشی لی گئی تو اسکا مقامی شناختی کارڈ بر آمد ہوا۔فوج نے بتایاکہ منگل کی شام لائن آف کنٹرول کے قریب واقع اوڑی سیکٹر کے دولنجا علاقہ میں مشکوک نقل و حرکت دیکھی ۔ سیکورٹی اہلکاروں نے مشکوک درانداز کو انتباہ کیا تاہم وہ بھارتی حدود کی جانب پیش قدمی کرتا رہا۔ سیکورٹی فورسز نے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں درانداز ہلاک ہو گیا۔پولیس نے بتایا کہ ماراگیا56سالہ شخص اصل میں کنڈی برجالاکمل کوٹ اوڑی کارہنے والاسرفراز میر ولد سائیں میرہے ۔پولیس نے بتایاکہ مہلوک شخص 1990میں عسکری تربیت حاصل کرنے کیلئے سرحدپارچلاگیاتھا،اوروہ 2سال بعدسال1992میں ہتھیار لیکر واپس لوٹا ،اوریہاں تین سال تک عسکری محاذ پرسرگرم رہنے کے بعد1995میں سیکورٹی فورسزکے سامنے سرنڈرکیا۔پولیس نے بتایاکہ بعدازاں وہ 2005میں پھرپاکستان چلاگیا۔پولیس نے بتایاکہ مہلوک شخص کی نعش کیساتھ ایک بندوق بھی ملی۔جبکہ مہلوک کی تحویل سے پاکستانی زیرانتظام کشمیر (مظفرآباد)کے حکام کی جانب سے اسکے حق میں جاری کیاگیا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا ،جس سے اسکی شناخت ہوگئی ۔پولیس نے بتایا کہ لاش کو تمام قانونی لوازمات کے بعد اوڑی میں ٹی وی ٹاور کے نزدیک سپرد خاک کیا گیا۔آخری رسومات میں مقامی لوگوں کے علاوہ اسکے کچھ رشتہ دار بھی موجود تھے۔
شوپیان اورکریر ی میں تلاشیاں
شاہد ٹاک+فیاض بخاری
شوپیان+بارہمولہ // شوپیان اورکریر ی بارہمولہ میں گھرگھر تلاشیاںلی گئیں۔شوپیان کے گڑی پورہ میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس ، 62آر آر اور 14بٹالین سی آر پی ایف نے کریک ڈائون کیا اور ناکہ بندی کر کے وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی۔ گڑی پورہ شوپیان میں رات دیر تک تلاشی کارروائی کا عمل جاری رہا لیکن کوئی نا خوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔کئی گھنٹوں کے بعد آپریشن ختم کیا گیا۔ادھرفوج، سی آر پی اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے کریر ی بارہمولہ با گنڈراہ علاقہ کو محاصرے میں لیا اور تلاشی مہم شروع کی۔ فورسز کو ان علاقوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ تاہم وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی کے باوجود بھی اس علاقے میں کہیں پر بھی فورسز اور جنگجوئوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا اور نہ کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔