اوڑی//ظفر اقبال//3 ماہ سے زائد عرصے سے مستقل تحصیلدار تعینات نہ ہونے کے باعث اوڑی میں تحصیل دفتر کا کام کاج بری طرح متاثر ہو رہاہے اور مختلف سرکاری دستاویز حاصل کرنے کیلئے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک مقامی وفد نے الزام عائد کیا کہ تحصیل دفتر اوڑی میں عملہ صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا ہے کیونکہ لوگوں کے روزمرہ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی مستقل افسر دستیاب نہیں ہے۔ وفد نے بتایا کہ حکومت نے اگست میں سابق تحصیلدار اوڑی کو دفتر سے تبدیل کر دیا لیکن آج تک نئے تحصیلدار کو تعینات نہیں کیاگیا ۔ وفد نے کہاکہ تحصیلدار بونیار کو اوڑی کا اضافی چارج دیا گیا تھا لیکن ہماری سخت پریشانیوں کے باوجود بھی وہ کم ہی اوڑی دفتر آتے ہیں۔ وفد نے بتایا کہ کُل وقتی تحصیل سربراہ کی غیر موجودگی میں مقامی آبادی خاص طور پر طالب علموں کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آر بی اے، پی ایس پی، ڈومیسائل، انکم سرٹیفکیٹ اور دیگر متعلقہ دستاویزات حاصل کرنے میں انہیں مشکلات درپیش ہیں۔وفد میں شامل نامبلہ گاں کے ایک مقامی شہری شبیر احمد شیخ نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کا سکالر شپ فارم جمع کرانا چاہتا ہے اور انکم سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے لگاتار 6دنوں تک تحصیل آفس کا دورہ کیا تاہم ہر موقع پر مجھے یہ بہانہ بنا کر واپس کیا گیا کہ تحصیلدارکل آئے گا۔ مذکورہ شہری نے کہا کہ تقریبا ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی دستاویزات دفتر میں پڑے ہوئے ہیں۔ شبیر شیخ نے مزید کہا کہ ہر دن بڑی تعداد میں لوگ تحصیل دفتر کے باہر ہوتے ہیں جن کی دستاویزات کئی مہینوں سے کسی نہ کسی بہانے دفتر میں دھول چاٹ رہے ہیں۔ وفد میں شامل ایک اور شہری محمد صادق نے بھی اسی طرح کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی انکم سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دی لیکن کوئی بھی محکمہ مال کا اہلکار عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے مبینہ طور دفتر میں پورا وقت دستیاب نہیں ہوتاہے۔صادق نے زور دے کر کہا’بونیار کے تحصیلدار ہفتے میں ایک بار آتے ہیں جو عوام کے معاملات کو حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں‘۔وفد نے لیفٹیننٹ گورنر جموں کشمیر منوج سہنا سے اپیل کی کہ اوڑی میں بلا تاخیر مستقل طور پر تحصیلدار کو تعینات کیا جائے تا کہ لوگوں کے روز مرہ مسائل کا ازالہ ہو سکے۔