عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)نے جموں اور کشمیر کے اونچی علاقوں میں 43 عارضی آپریٹنگ بیس (TOBs) قائم کیے ہیں۔ یہ اقدام اپریل 2025 میں پہلگام میں ملی ٹینٹ حملے کے بعد 6,000 فٹ یا اس سے اوپر کی بلندی پر کام کرنے والے ملی ٹینٹوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بڑی سیکورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے۔میڈیا رپورٹس میں اس تعیناتی سے متعلق اہم تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ 43 کیمپوں کو ملی ٹینٹوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو وادی کے زیادہ اونچائیوں، خاص طور پر “ڈھوک” (مٹی اور پتھر کی جھونپڑیوں)کے اندر منتقل ہوئے ہیں۔43 کیمپوں میں سے 26 کشمیر اور 17 جموں کے علاقے میں قائم کئے گئے ہیں۔
ہر عارضی کیمپ پر مقامی پولیس اہلکاروں کے ساتھ 16-25 سی آر پی ایف کے دستے موجود ہیں۔ افواج اونچائی پر کارروائیوں کے لیے خصوصی آلات سے لیس ہیں، جن میں موسم سرما کی جیکٹس، سلیپنگ بیگز اور سیٹلائٹ فون شامل ہیں۔ یہ کیمپ تیز تلاشی اور حملہ آور کارروائیوں کے لیے بنائے گئے ہیں، جن میں سے ایک کا استعمال جولائی 2025 میں “آپریشن مہادیو” کے دوران تین ملی ٹینٹوں کوہلاک کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ تعیناتی اونچی جگہوں پر کام کرنے والے غیر ملکی ملی ٹینٹوں کی تعداد میں اضافے کے بعد کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں تقریباً 100 غیر ملکی ملی ٹینٹ سرگرم ہیں۔