لندن//برطانوی سائنسدانوں نے ایک مختصر جیبی آلہ استعمال کرتے ہوئے انسانی جینوم کی تیز رفتار اور انتہائی درست سلسلہ بندی میں کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ اسی دوران انہوں نے انسانی جینوم میں کچھ ایسے مقامات بھی دریافت کیے ہیں جو اس سے پہلے دیکھے نہیں گئے تھے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں درستگی کی شرح 99.8 فیصد سے بھی زیادہ ہے جو اس جدید میدان میں بہت اہم پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔ریسرچ جرنل ’’نیچر بایوٹیکنالوجی‘‘ کی تازہ ترین آن لائن اشاعت میں شائع شدہ، اس کامیابی کی تفصیلات کے مطابق، ماہرین کی مذکورہ ٹیم نے ’’آکسفورڈ نینوپور ٹیکنالوجی‘‘ نامی کمپنی کا بنایا ہوا دستی آلہ ’’منیئن‘‘ (MinION) استعمال کیا جبکہ ایک انسانی جینوم کی سلسلہ بندی کا کام بیک وقت پانچ مختلف تجربہ گاہوں میں انجام دیا گیا۔ اس تحقیقی رپورٹ کے مرکزی مصنف ڈاکٹر میتھیو لوز (Matthew Loose) ہیں جن کا تعلق نوٹنگھم یونیورسٹی، برطانیہ سے ہے۔ انہوں نے ایک ای میل کے جواب میں راقم کو بتایا کہ اگر اس عمل میں صرف ایک ’’منیئن‘‘ آلہ استعمال کیا جاتا تو انسانی جینوم کی مکمل سلسلہ بندی میں 100 دن لگ جاتے لیکن چونکہ یہ کام بیک وقت پانچ تجربہ گاہوں میں کیا گیا اور ہر تجربہ گاہ میں پانچ منیئن آلات استعمال کیے گئے، اس لیے یہ کام 2 سے 3 ہفتوں (تقریباً بیس دنوں) میں پورا ہوگیا۔واضح رہے کہ کسی بھی انسان کی ظاہری شکل اور مزاج سے لے کر اسے مخصوص امراض سے لاحق خطرات تک کی ساری تفصیلات اس کے ’’جینوم‘‘ (genome) یعنی جین (gene) کے مجموعے میں محفوظ ہوتی ہیں جو بذاتِ خود ڈی این اے پر مشتمل اور کروموسومز (chromosomes) کے 23 جوڑوں (یعنی کْل 46 کروموسومز) کی شکل میں ہوتا ہے جن میں سے نصف اس شخص کے والد کی طرف سے جبکہ باقی نصف اس کی والدہ کی طرف سے (ورثے میں) ملے ہوتے ہیں۔