بینکاک /آس بازار// شمال مغربی میانمار میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لئے روہنگیا باغی ارآان روہنگیا ڈیفنس آرمی (ایارایس اے) نے ایک ماہ کے لئے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ ارآان روہنگیا ڈیفنس آرمی (ایا رایس اے) کی طرف 25 اگست کو رخائن صوبے میں پولیس چوکیوں پر حملے کے خلاف فوج نے بڑی مہم چلائی ہے۔دریں اثنا، روہنگیا مسلمانوں کے تقریبا تین لاکھ مسلمان میانمار سے ہجرت کرکے بنگلہ دیش آگئے ہیں۔ ایارایس اے نے کل ایک ایک بیان جاری کرکے کہا کہ جنگ بندی کے دوران بحران میں پھنسے تمام لوگوں تک انسانی امداد پہنچانے میں امدادی گروپوں کو مدد کی جائے گی۔ انہوں نے تمام متاثرہ افراد کو انسانی امداد دینے کے لئے فوج سے بھی تشدد ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر)نے کہا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں میانمار سے قریب دو لاکھ 70 ہزار روہنگیا پناہ گزینوں نے نقل مکانی کی ہے۔ میانمار سے نقل مکانی کرنے والے زیادہ تر روہنگیامسلمان بنگلہ دیش میں آئے ہیں۔ یہ لوگ بنگلہ دیش کے دو کیمپوں میں رہتے ہیں جہاں ان کی حالت بہت بری ہے۔اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ بھاگ کر آنے والے افراد کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ میانمار حکومت کا کہنا ہے کہ ایارایس اے ایک شدت پسند تنظیم ہے جس کے لیڈر بیرون ملک سے تربیت لیتے ہیں۔ وہیں ایارایس اے کے مطابق ان کا مقصد میانمار میں رہنے والے روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔