جموں و کشمیر میں بھی درجہ حرارت منفی 9ڈگری تک گرنے کی پیشگوئی
اشفاق سعید
سرینگر // عالمی موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ امسال پوری دنیا میں ایک صدی کا سب سے سرد ترین ’ موسم سرما‘ کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ (Arctic) زمین کا سب سے شمالی علاقہ ، جو قطب شمالی کا مرکز ہے، جہاں سب سے زیادہ سرد ی اوربرفیلی ہوائیں ہوتی ہیں، میں تبدیلی سے لاکھوں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں ، جنہیں صدی میں پہلی بار غیر معمولی موسم کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ورلڈ ویدر رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہوا کی گردش کمزور پڑ گئی ہے، جوعام طور پر قطب شمالی کے قریب ٹھنڈی ہوا کو بند رکھتی ہے لیکن اس سال یہ اتنی مضبوط نہیں ہے۔ اس لیے زیادہ ٹھنڈی ہوا ئیںجنوب کی طرف بڑھ رہی ہے اور اسی وجہ سے اس سال بہت سے علاقوں میں سردی کی شدت سردی کے موسم سے پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال موسم سرما اس بات کے اشاروں کے ساتھ آیا ہے کہ کچھ مختلف ہے اور یہ ماحول (Atmosphere )سے ملنے والے اشارے ہیں۔ سائنس دانوں کے لیے یہ موسم ڈرامائی ہو سکتا ہے معمول کے مطابق نہیں۔ شمالی نصف کرہ میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے۔ یہ وہ شفٹ ہے جو قطب شمالی کے اوپر سے شروع ہوتی ہے۔ اور یہ اب شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا کے کچھ حصوں میں موسم کو متاثر کر رہا ہے۔ قطبی گردش مرکز میں ہے۔ یہ تیز ہوائوں کا ایک بڑا حلقہ ہے جو Arctic کے گرد چکر لگاتا ہے۔ یہ عام طور پر سب سے ٹھنڈی ہوا کو قطب شمالی پر روک لیتا ہے، لیکن اس موسم سرما کی رپورٹوں کے مطابق یہ معمول سے کمزور ہے۔ کچھ علاقوں میں یہ تقسیم بھی ہے۔ اس کمزوری کا تعلق کرہ کے اچانک گرم ہونے سے ہے۔ ہر روز الگ موسم کا تجربہ ہورہا ہے ۔ یہ ایک پرسکون دائرہ ہے جسے Stratosphere کہتے ہیں۔ اس وقت آرکٹک تیزی سے گرم ہو رہا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب غیر معمولی ماحولیاتی لہریں اوپر کی طرف دھکیلتی ہیں۔ ایک بار جب ایسا ہوتا ہے تو آرکٹک لہریں جنوب سے شمالی امریکہ اور ایشیا کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ علاقوں میں درجہ حرارت منجمد ہوسکتا ہے، کچھ میں مزید سردی پڑ سکتی ہے جو پہلے نہیں دیکھی گئی اور بھارت کو سخت سردی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قومی موسیماتی مرکز کے مطابق وسطی، مغربی اور شمال مشرقی ہندوستان میں سردی کی لہرمتوقع ہے اور اس کا اثر 2026 کے اوائل تک متوقع ہے۔
جموں و کشمیر
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے توجموں و کشمیر میں رواں موسمِ سرما غیر معمولی طور پر سخت ثابت ہونے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔وادی میں نومبر سے ہی عالمی موسمی تبدیلیوں کے اثرات پہنچ رہے ہیں۔وادی میں جو سردی دسمبر میں پڑتی تھی، اس سال نومبر میں ہی پڑی اور درجہ حرارت منفی 5تک گرا۔ اسی طرح دسمبر کئی برسوں بعد اب تک کا سب سے سرد دسمبرگذر رہا ہے۔ محکمہ موسمیات ہند کی تازہ رپورٹ کے مطابق شدید سردی میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ قطب شمالی میں تبدیلی سے موسمیاتی اور ہوا کی گردش کمزور ہونے سے شدید سرد ہوائیں جنوبی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہیں، جن کے اثرات شمالی بھارت کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال کرہ ارض کے بالائی حصے میں اچانک حدت کے باعث یہ نظام متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں سرد ہوائیں خطے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو رواں سال چلہ کلاں معمول سے زیادہ سخت ثابت ہو سکتا ہے۔بھارت میں سرد لہر کے آثارمحکمہ موسمیات ہند کے مطابق شمالی، وسطی اور شمال مشرقی بھارت میں دیکھی جارہی ہے۔پہاڑی علاقوں اور شمالی میدانی ریاستوں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں نیچے درج ہورہاہے۔ ماہرین کے مطابق بحرالکاہل میں لا نینا کی صورتحال بھی سردموسمی شدت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جس کے اثرات 2026 کے اوائل تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات
موجودہ موسمیاتی پیشین گوئیوں اور آب و ہوا کے نمونوں کی بنیاد پر، جموں و کشمیر 2025 کے آخر اور 2026 کے اوائل تک سرد رہنے کی توقع ہے۔جموں و کشمیر میں موسم سرما فطری طور پر سرد ہوتا ہے، درجہ حرارت باقاعدگی سے انجماد سے نیچے گرتا ہے۔ 40 دن کا سخت ترین موسم سرما، جسے ‘چلہ کلاں’ کہا جاتا ہے، ہر سال 21 دسمبر کے آس پاس شروع ہوتا ہے اور 31 جنوری تک رہتا ہے۔اکتوبر اور دسمبر 2025 کے درمیان لا نینا آب و ہوا کے پیٹرن کے تیار ہونے کے بہت زیادہ (70% سے زیادہ)امکانات ہیں۔ لا نینا کے حالات اکثر شمال مغربی اور وسطی ہندوستان کے کچھ حصوں بشمول جموں و کشمیر میں “عام سردی کی لہر کے دن” کا باعث بنتے ہیں۔جموں و کشمیرخطہ اس وقت سردی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، کم از کم درجہ حرارت میں پہلے سے ہی اتار چڑھا آ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امسال نومبر اور دسمبر میں منفی 5تک درجہ حرارت گرنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ جنوری میں درجہ حرارت منفی 9تک جاسکتا ہے کیونکہ منفی 6یا 7ڈگری تک ہر سال جاتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلی سے درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک گر نے کے امکانات بھی ہیں ۔