وواشنگٹن//یو این آئی//پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات کے درمیان امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کی تعداد کی اضافہ ہورہا ہے ، جہاں کئی ایسے امیدواربھی ہیں جو قانون ساز ریاست کے لیے پہلی بار منتخب ہوئے ہیں۔امریکا میں ہونے والے وسط مدتی الیکشن میں مجموعی طور پر 83 مسلم امیدواروں نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ان میں ہندوستان وپاکستان نژاد افراد بھی شامل ہیں۔ امریکا میں وسط مدتی الیکشن میں اس بار 150 مسلم امیدوار میدان میں تھے جن میں 23 ریاستوں کی قانون ساز اسمبلی کے لیے 51 مسلم امیدوار بھی شامل ہیں۔کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور ایک این جی جیٹ پیک کا دعویٰ ہے کہ 150 مسلم امیدواروں میں سے 83 امیدواروں نے کامیابی سمیٹی جن میں سے 45 امیدوار قانون ساز اسمبلیوں کے لیے منتخب ہوئے جب کہ بقیہ مقامی حکومتوں کے لیے کامیاب ہوئے۔ ان الیکشن میں امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان امیدوار کے سینیٹر منتخب ہونے کا امکان قوی ہے۔ٹیکساس سے سلیمان لیلانی اور سلمان بھوجانی کی جیت اہمیت کی حامل ہے ، سال 2007 میں اُس وقت کے سینیٹر ڈین پیٹرک نے ٹیکساس کی سینیٹ میں پہلی بار مسلمان عالم کی جانب سے دعا کا بائیکاٹ کیا تھا۔ڈین پیٹرک اب لیفٹینٹ گورنر کے طور پرسینیٹ کی صدارت کررہے ہیں۔امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں 85 مسلمان وفاقی، ریاستی، مقامی اور جوڈیشل آفس کے لیے منتخب ہوئے تھے ، ان منتخب امیدواروں میں کئی لوگ پاکستانی نژاد بھی ہیں، نیوز ویب سائٹ ایزیوس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال انتخابات میں متعدد ہندوستانی اور پاکستانیوں سمیت امریکی ایشیائی منتخب ہوئے ۔