واشنگٹن//امریکی سینیٹ نے کثرت رائے سے ایران اور روس کے خلاف نئی، مگر سخت پابندیوں کی منظوری دے دی ہے اور ایک بل کو منظوری کے لیے ایوان نمائندگان کو بھیج دیا ہے۔ اس کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس کے خلاف عاید کردہ پابندیوں میں یک طرفہ طور پر نرمی نہیں کرسکیں گے۔سینیٹ میں دونوں پارٹیوں (ری پبلکن اور ڈیموکریٹک) کے ارکان نے ایران کے خلاف دہشت گردی کی حمایت جاری رکھنے کے الزام میں نئی پابندیوں کی منظوری دی ہے اور بل میں کہا گیا ہے کہ ایران کو اپنے اقدامات کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔نئی قانون سازی کے تحت روسی صدر ولادی میر پوتین پر بھی گذشتہ سال نومبر میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام میں پابندیاں کی جا رہی ہیں اور وائٹ ہاو¿س کے لیے ان پابندیوں کو ختم کرنا یا واپس لینا مشکل بنا دیا گیا ہے۔سینیٹ میں رائے شماری سے چندے قبل ڈیمو کریٹ چک شومر نے اپنے ساتھی سینیٹروں سے کہا کہ ” صدر کا ایسی کوئی آئیڈیا ،جس کے تحت وہ از خود ہی کسی بھی سبب کی بنا پر پابندیوں کو اٹھا سکتے ہیں،اس قانون سازی کے ذریعے ختم کردیا گیا ہے“۔سینیٹ نے دو کے مقابلے میں 98 ووٹوں سے روس کے خلاف وسیع سطح کی تعزیرات کی منظوری دی ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے اب مشکل ہوگا کہ وہ روس کےخلاف سزا کےاقدامات میں نرمی برتیں۔اریزونا سے تعلق رکھنے والے ری پبلیکن پارٹی کے سینیٹر، جان مکین نے کہا ہے کہ ”ہمارے پاس ضائع کرنے کے لیے کوئی وقت نہیں“۔بقول ا±ن کے، ”ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ (روسی صدر) ولادیمیر پوٹن یا پھر کسی اور جارح کو ٹھوس پیغام بھیجے کہ ہماری جمہوریت کے خلاف حملے پرداشت نہیں کیے جائیں گے“۔نیو ہیمپشائر سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر، ڑان شاہین نے کہا ہے کہ ”ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت کی اجازت نہ دیں، تاکہ یہ معمول کا معاملہ نہ بنے“۔ایران کے خلاف تعزیرات کے ترمیمی بِل کے طور پر کثرتِ رائے سے منظور ہونے والی اِس قانون سازی میں روس کی سائبر جاسوسی کی کارروائیاں، توانائی کے شعبے، مالی مفادات اور شام جیسے لڑائی کے شکار علاقوں کو روسی ہتھیاروں کی رسد جاری رکھنے کے معاملے کو ہدف بنایا گیا ہے۔بین کارڈن کا تعلق میری لینڈ سے ہے اور وہ سینیٹ کی امورِ خارجہ کمیٹی کے چوٹی کے ڈیموکریٹ ہیں۔ ا±نھوں نے کہا ہے کہ ”دی گئی فہرست کو بڑھایا جاسکتا ہے آیا توانائی کے منصوبوں اور بیرونی مالی اداروں میں تعزیرات کہاں تک عائد کی جائیں گی“۔بقول ا±ن کے، اس میں سائبر سکیورٹی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے، جن پر پابندیوں لاگو ہوں گی۔ اس میں روس کی جانب سے شام کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی ہوگی۔ یہ مربوط قانون سازی ہے“۔اقدام میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاو¿س نے روس کے خلاف کسی پابندی میں نرمی کی تو کانگریس اقدام کر سکتی ہے۔