حوثیوں کاسعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کرنے کا اعلان،نیا محاذ جنگ کھلنے کا خدشہ
ایجنسیز
دبئی//ایران نے منگل کے روز خلیج فارس کے خطے میں واقع امریکی ریڈار سسٹمز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور واشنگٹن کو خبردار کیا کہ آئندہ اس سے بھی زیادہ ’’فیصلہ کن اور طاقت ور‘‘ حملے کیے جائیں گے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ’’احکامات کی خلاف ورزی‘‘ کر کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکروں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کے چند گھنٹے بعد ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور انتظامی عمارتیں شامل ہیں۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے اِرنا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے ایک بیان میں کہا، ’’اس ریڈار کارروائی کے بعد دشمن کو ڈرون اور میزائل حملوں کی مزید فیصلہ کن اور طاقت ور لہروں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘‘یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے جنگ کے دائرہ کار کو نمایاں طور پر وسیع کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب کی بندرگاہوں کا محاصرہ کریں گے۔حوثیوں کی جانب سے ایسے کسی اقدام کی صورت میں سعودی عرب کے لیے اس کی تیل کی برآمدات کے ایک حصے کو آبنائے ہرمز کے بجائے متبادل راستوں کی طرف منتقل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔گزشتہ ہفتے سعودی عرب اور حوثی باغیوں نے کئی برس بعد پہلی مرتبہ ایک دوسرے پر حملے کیے گئے تھے، جس سے دونون کے مابین 2022 میں ہونے والی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی تھی۔ تاہم اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے فروری کے اواخر میں ایران پر حملوں کے بعد سے حوثی باغی بڑی حد تک براہ راست لڑائی سے الگ ہی رہے ہیں۔سعودی عرب نے، اس کے بقول، ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا‘‘ کی دھمکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’برادر یمنی عوام اور ان کی جائز حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔‘‘امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں روزانہ ایک دوسرے پر فضائی اور میزائل حملے کر رہے ہیں، جبکہ دونوں میں سے کوئی بھی پسپائی اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔