واشنگٹن//امریکی ایوان نمائندگان میں اسلاموفوبیا کے خلاف بل منظور کرلیا گیا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں اسلامو فوبیا کے خلاف بل منظور ہوا، ڈیموکریٹس کی 219 ووٹ کے ساتھ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کی حمایت جبکہ ری پبلکنز نے 212 ووٹ کے ساتھ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کی مخالفت کی۔خبر ایجنسی کے مطابق بل کے تحت ایک محکمہ بنایا جائے گا جو اسلامو فوبیا کے واقعات کو مانیٹر کرے گا، بل کو قانون بنانے کے لیے امریکی سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔رکن کانگریس الہان عمر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کا منظور ہونا مسلمانوں کے لیے سنگ میل ہے۔اس دوران امریکی ایوان نمائندگان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق چیف ا?ف سٹاف مارک میڈوز کے خلاف چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کرنے والے کانگریسی پینل کے سامنے گواہی دینے سے انکار کرنے پر مجرمانہ توہین کے الزامات کی سفارش کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایوان کی سلیکٹ کمیٹی نے ووٹ سے پہلے بیان دیا تھا کہ ’ہم نے مارک میڈوز کو تعاون کرنے کا ہر موقع دیا ہے۔ وہ اس صورتحال کے خود ذمہ دار ہیں۔‘کانگریس اراکین پر مشتمل پینل سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپیٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ ا?رائی کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں معاون مارک میڈوز اور دیگر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کی تھی۔نو رکنی سلیکٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکسٹ میسجز اور دیگر پیغامات کے بارے میں جوابات تلاش کر رہی ہے جن کے بارے میں میڈوز پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ انہیں ظاہر نہ کرنے کا استحقاق نہیں رکھتے ہیں۔تفتیش کاروں کا مزید کہنا ہے کہ مارک میڈوز نے کسی بھی صورت میں گواہی دینے سے انکار کرنے کا حق ترک کر دیا ہے۔