عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
دبئی// امریکہ نے بدھ کی صبح ایران پر فضائی حملے کیے۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے عالمی منڈی میں ایرانی خام تیل کی کھلے عام فروخت کی اجازت بھی منسوخ کر دی۔ بعد ازاں ایران نے مبینہ طور پر بحرین اور کویت کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ایران نے فوری طور پر امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضروری سمجھے جانے والے تمام اقدامات کرے گا، جس سے جنگ بندی کے عبوری معاہدے کے ٹوٹنے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر وسیع پیمانے پر تنازع بھڑکنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکی حملوں کے بعد بحرین، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، اور کویت، جہاں امریکی فوج موجود ہے، میں بدھ کی صبح میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی کئی روزہ نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات جاری تھیں۔ خامنہ ای 28 فروری کو جنگ کے ابتدائی لمحات میں 86 برس کی عمر میں مارے گئے تھے ۔
خامنہ ای کی تدفین کے بعد حتمی امن معاہدے پر مذاکرات شروع ہونا تھے، جن میں آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے اور ایران کے متنازع جوہری پروگرام پر بات چیت شامل تھی، مگر تازہ حملوں نے ان مذاکرات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’’دھونس اور بلیک میلنگ کا دور ختم ہو چکا ہے، ہم کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔‘‘امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق کارروائی کا مقصد بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں بے گناہ شہری عملے والے تجارتی جہازوں پر حملوں کی بھاری قیمت وصول کرنا تھا۔امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کی 60سے زائد تیز رفتار کشتیوں کو نشانہ بنایا، جو آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔امریکی فوج نے کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھی تو اسے مزید جوابدہ ٹھہرایا جائے گا، تاہم موجودہ کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔دوسری جانب ایران نے حملوں کی تصدیق کی، لیکن کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق بندر عباس، قشم اور سیریک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ایران کی مرکزی فوجی کمان نے کہا کہ اس جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی صورت آبنائے ہرمز کے معاملات میں بیرونی مداخلت یا کسی دوسرے ملک کو اس کی نگرانی کی اجازت نہیں دیں گی۔امریکہ نے عبوری معاہدے کے تحت ایران کو عالمی منڈی میں خام تیل فروخت کرنے کی دی گئی اجازت بھی واپس لے لی۔اس اجازت کے تحت ایران کئی برس بعد پہلی مرتبہ امریکی ڈالر میں کھلے عام تیل فروخت کر رہا تھا، جبکہ اس سے قبل اس پر الزام تھا کہ وہ پابندیوں کے باوجود چین کو رعایتی قیمت پر خام تیل فروخت کرتا رہا ہے۔یہ فیصلہ ان بحری حملوں کے بعد کیا گیا جن میں ایک آئل ٹینکر عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بننے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا کہ مائع قدرتی گیس (LNG) لے جانے والے ایک جہاز نے ایرانی انتباہات کو نظرانداز کیا تھا، تاہم حملے کی براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔منگل کو نشانہ بننے والے تمام بحری جہاز عمان کے ساحل کے قریب والے راستے سے گزر رہے تھے، جبکہ ایران نے اپنی نگرانی والے مخصوص راستے کو ہی محفوظ قرار دیا ہے اور اس سے ہٹ کر سفر کرنے والے کئی جہازوں پر حملوں کا الزام بھی اس پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ قطری ٹینکر الرقیات پر حملہ بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی توانائی کے تحفظ پرناقابل قبول حملہ ہے، جس کی مکمل قانونی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔عبوری معاہدے کے تحت ایران اور امریکہ نے 60 روز تک بحری جہازوں کو بغیر کسی فیس کے گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، تاہم ایران کا مؤقف تھا کہ جہازوں کے راستوں کا تعین اسی کے اختیار میں ہوگا اور بعد میں گزرنے کی فیس بھی وصول کی جائے گی۔امریکہ اور بیشتر خلیجی عرب ممالک نے ایران کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے پر کسی قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
خام تیل کی قیمتوں میں اچھال
آبنائے ہرمز کے قریب تین تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کے تیل پر عائد پابندیوں میں دی گئی نرمی واپس لینے کے فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 5فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔بین الاقوامی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5.5فیصد اضافے کے ساتھ 75ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔امریکی حکام کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مکمل طور پر ایران کے طرزِ عمل سے مشروط تھا۔ایک امریکی عہدیدار نے کہا، ’’ایران کو معاہدے کے فوائد اسی صورت حاصل ہوں گے جب وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیاں امریکہ کے لیے ناقابل قبول تھیں اور ان کے نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔‘‘امریکی محکمہ خزانہ نے ایک نئی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ پابندیوں میں نرمی کے تحت منظور شدہ تمام لین دین 17جولائی تک ختم کرنا ہوں گے، جبکہ اس سے قبل یہ رعایت 21 اگست تک ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دیتی تھی۔یہ رعایت امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ عبوری مفاہمتی معاہدے کا حصہ تھی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اس فیصلے کو مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے لبنان میں اسرائیلی اقدامات اور ایران کے خلاف دھمکی آمیز بیانات کے باعث بارہا معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،’’امریکہ کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج سے خبردار کرتے ہوئے ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔‘‘