محمد امین میر
ہر سال گرمیوں کے موسم میں جب کشمیر کے بلند و بالا ہمالیائی پہاڑوں پر جمی برف پگھلنا شروع ہوتی ہے تو ہندوستان کے کونے کونے سے ہزاروں عقیدت مند دنیا کی نہایت دشوار مگر روحانی اعتبار سے انتہائی عظیم زیارتوں میں سے ایک، امرناتھ یاترا، پر روانہ ہوتے ہیں۔ بھگوان شیو کے ماننے والوں کے لیے یہ سفر محض پہاڑوں، گلیشیئروں اور دشوار گزار راستوں کی مسافت نہیں بلکہ ایمان، عقیدت، قربانی اور روحانی خود شناسی کا سفر ہے۔ دوسری جانب کشمیر کے لوگوں، خصوصاً یاترا کے روایتی راستوں پر آباد باشندوں کے لیے یہ صدیوں سے مہمان نوازی، اخوت اور انسان دوستی کی ایک خوبصورت روایت رہی ہے۔
چند روز قبل میری پچھتر سالہ والدہ سے امرناتھ یاترا کے بارے میں گفتگو ہوئی تو ان کی یادوں نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ انہوں نے ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت مقدس غار تک پہنچنے کے لیے آج جیسی سڑکیں، ہیلی کاپٹر یا جدید سہولیات موجود نہیں تھیں۔ زیادہ تر یاتری سارا سفر پیدل طے کرتے تھے۔ وہ صرف ضروری سامان ساتھ لے کر کئی دنوں تک دشوار پہاڑی راستوں، برفانی گزرگاہوں، بارش، شدید سردی اور تھکن کا سامنا کرتے ہوئے منزل تک پہنچتے تھے، مگر ان کے ایمان میں کبھی کوئی کمزوری نہیں آتی تھی۔
میری والدہ نے کہا کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے حج ایک عظیم مذہبی فریضہ اور روحانی سعادت ہے، اسی طرح بہت سے ہندوؤں کے لیے امرناتھ غار میں قدرتی برف سے بننے والے شیو لنگ کے درشن بھی انتہائی مقدس حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد دونوں عبادات کو ایک جیسا قرار دینا نہیں تھا بلکہ یہ احساس دلانا تھا کہ ہر مذہب میں ایسے مقدس سفر موجود ہیں جو انسان کو اپنے رب سے قریب کرتے ہیں۔ ان کی اس بات نے مجھے یہ سبق دیا کہ دوسرے مذاہب کے عقائد کا احترام کرنا بھی انسانیت کی ایک اعلیٰ قدر ہے۔
میری والدہ کی طرح بے شمار کشمیری امرناتھ یاتریوں کی آمد پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ان کی آمد ہمیں اس تاریخی حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ کشمیر ہمیشہ سے روحانیت، محبت، باہمی احترام اور مہمان نوازی کی سرزمین رہا ہے۔
امرناتھ یاترا کی قدیم تاریخ :
سطح سمندر سے تقریباً 3,888 میٹر کی بلندی پر واقع امرناتھ غار ہندو مذہب کے مقدس ترین زیارت گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ قدیم روایات کے مطابق بھگوان شیو نے اسی تنہا اور پُرسکون غار کو اس لیے منتخب کیا تاکہ وہ دیوی پاروتی کو امر کتھا یعنی حیات و موت کے ابدی راز سے آگاہ کر سکیں۔روایت کے مطابق غار میں داخل ہونے سے قبل بھگوان شیو نے اپنی تمام دنیاوی علامات اور ساتھیوں کو مختلف مقامات پر چھوڑ دیا۔ نندی کو پہلگام میں، چاند کو چندن واڑی میں، سانپوں کو شیش ناگ کے قریب، بھگوان گنیش کو مہاگناس کے مقام پر اور پانچ بنیادی عناصر کو پنچ ترنی میں چھوڑنے کے بعد وہ غار میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے امر کتھا بیان کی۔
غار کے اندر ہر سال ٹپکتے ہوئے پانی کے قطروں کے جم جانے سے قدرتی طور پر برف کا ایک ستون بنتا ہے جسے عقیدت مند مقدس شیو لنگ کے طور پر پوجتے ہیں۔ لاکھوں ہندوؤں کے نزدیک یہ بھگوان شیو کی ابدی موجودگی کی علامت ہے۔قدیم سنسکرت ادب اور بعد کے تاریخی ماخذ اس مقدس غار کا ذکر کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امرناتھ یاترا کشمیر کی مذہبی اور ثقافتی تاریخ کا نہایت قدیم حصہ ہے۔
بُوٹا ملک کی داستان :
امرناتھ غار سے وابستہ سب سے مشہور روایت ایک مسلمان چرواہے بُوٹا ملک کی ہے۔ مقامی لوک روایت کے مطابق ایک دن انہیں ایک بزرگ درویش ملے جنہوں نے انہیں کوئلے سے بھری ایک تھیلی دی۔ جب وہ گھر پہنچے تو دیکھا کہ کوئلہ سونے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وہ اس بزرگ کا شکریہ ادا کرنے واپس گئے مگر وہاں بزرگ کی بجائے انہیں مقدس امرناتھ غار اور برف سے بنا شیو لنگ نظر آیا۔چاہے اس روایت کو تاریخ سمجھا جائے یا لوک داستان، یہ کشمیر کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی ایک خوبصورت علامت ہے۔ ایک مسلمان چرواہے کا ہندو مذہب کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کے ساتھ وابستہ ہونا اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ کشمیر صدیوں تک مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مشترکہ ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔ماضی اور آج کا سفر :
وقت کے ساتھ امرناتھ یاترا میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں یہ سفر آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار تھا۔ یاتری بسوں کے ذریعے پہلگام تک پہنچتے اور اس کے بعد پورا راستہ گھنے جنگلات، برفانی گلیشیئروں، بلند پہاڑوں اور تنگ پگڈنڈیوں سے پیدل طے کرتے تھے۔قیام و طعام کی سہولیات انتہائی محدود تھیں۔ اکثر لوگ خیموں یا کھلے آسمان تلے رات گزارتے تھے۔ طبی امداد نہ ہونے کے برابر تھی اور رابطے کا کوئی مؤثر ذریعہ بھی موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود ہر سال ہزاروں افراد غیر متزلزل ایمان کے ساتھ اس مقدس سفر پر روانہ ہوتے تھے۔
آج بہتر سڑکیں، مواصلاتی نظام، موسم کی پیشگی اطلاع، طبی مراکز، ریسکیو خدمات، صفائی کے انتظامات اور ہیلی کاپٹر سروس نے یاترا کو نسبتاً محفوظ اور منظم بنا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ سفر آج بھی جسمانی برداشت اور روحانی استقامت کا امتحان ہے۔
[email protected]>
��������������������������