کہایاتریوں کی حفاظت اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے اتوار کے روز سینئر افسران کے ہمراہ نن ون بیس کیمپ کا دورہ کیا اور جاری یاترا کے اِنتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔انہوں نے اِنتظامی اور سیکورٹی افسران کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی ، جس میں یاتریوں کی آواجاہی ،سیکورٹی اِنتظامات، قیام و طعام کی سہولیات، رجسٹریشن کی پیش رفت اور اِنتظامی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ یاترا کو ہر لحاظ سے آسان، محفوظ اور خوش اسلوبی سے انجام دیا جا سکے۔لیفٹیننٹ گورنر نے افسران کو ہدایت دی کہ تمام یاتریوں کی حفاظت، سلامتی اور سہولیت کو اولین ترجیح دی جائے اور ساتھ ہی یہ یقینی بنائیں کہ ہر عقیدت مند کومقررہ تاریخوں کے ساتھ درست اور منظور شدہ رجسٹریشن کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ اِنتظار کے وقت کو کم سے کم کیا جا سکے۔انہوںنے افسران سے کہا،”قریبی تال تامل برقرار رکھیں ، زمینی سطح پر دستیاب رہیں اور یاتریوں کی شکایت کا فوری ازالہ یقینی بنائیں۔”دورے کے دوران لیفٹیننٹ گورنر نے یاتریوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں یقین دِلایا کہ شرائین بورڈ اور یاترا کے اِنتظامی محکمے ایک محفوظ، ہموار اور بلا رکاوٹ روحانی سفر کو یقینی بنانے کے لئے شب و روز مصروفِ عمل ہیں۔انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ یاتریوں پر مرکوز نقطہ نظراپنائیں اور اِس بات کویقینی بنائیں کہ کسی بھی عقیدت مند کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت دی کہ اگر ایک ہی کنبے کے افراد اکٹھے یاترا کے لئے پہنچیں اور ان میں سے کسی ایک فرد کے پاس رجسٹریشن نہ ہو جبکہ دیگر افراد کے پاس درست اِجازت نامے موجود ہوں، مقررہ طریقہ کار کے مطابق کنبے کی یاترا کو آسان بنانے کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کی جانی چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کچھ ٹریول ایجنٹوں کی جانب سے جعلی رجسٹریشن کرانے کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اِظہار کیا جس کے نتیجے میں بعض یاتری مناسب تصدیق کے بغیر یاترا کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے پولیس اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ایسے ٹریول ایجنٹوں کی نشاندہی کی جائے اور جعلی رجسٹریشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے ہمراہ اعلیٰ سول و پولیس افسران موجود تھے۔لیفٹیننٹ گورنر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”میں نے گزشتہ چار برسوں سے یاترا کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اس برس یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے اور اس صورتحال کے پیش نظر گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں بہتر اِنتظامات کئے گئے ہیں۔تاہم، اس وقت غیر رجسٹرڈ یاتریوں کی بڑی تعداد بھی پہنچ رہی ہے۔ میں ان تمام عقیدت مندوں سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے پیشگی رجسٹریشن نہیںکی کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور اپنی باری کا انتظار کریں۔ ان کا تعاون یاترا کے پرامن اور احسن اِنعقاد کے لئے نہایت ضروری ہے۔ براہِ کرم یاد رکھیں کہ چندن واڑی اور بال تل دونوں راستوں پر روزانہ یاتریوں کی مقررہ حد سختی سے نافذ ہے اور اس میں اضافہ ممکن نہیں۔ ان ضوابط پر عمل کرنا ہر ایک کی سلامتی اور بغیر کسی دشواری کے یاترا کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے۔ادھرلیفٹیننٹ گورنر نے چندن واڑی کا دورہ کیا اور یاتریوںکی سہولیات کا جائزہ لیا۔انہوںنے موقعہ پر موجود افسران، یاتریوں، رضاکاروں، لنگر سیواداروں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں سے بات چیت کی ۔انہوں نے یاترا کی اِنتظامی ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ یاتریوں کے تاثرات کاجائزہ لیں اور چوبیس گھنٹے مدد کے لئے دستیاب رہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ”ہم حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی مربوط اور مثبت کاوشوں کے ذریعے بھگوان شیو کے عقیدت مندوں کو بہترین رہائش اور معیاری طعام کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ انہوں نے چندن واڑی میں بیس ہسپتال کا معائینہ کیا۔ انہوں نے وارڈوں، لیبارٹریوں اور ایمرجنسی یونٹوں کا دورہ کیا اور مریضوں سے بات چیت کی تاکہ ان کی خیریت اور علاج کے معیار کا پتہ چل سکے۔انہیں بتایا گیا کہ ہسپتال میں ادویات اور ضروری طبی آلات کا وافر ذخیرہ موجود ہے جبکہ ماہر ڈاکٹروں، نرسنگ سٹاف اور پیرا میڈیکل عملے کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ تمام یاتریوں، خدمات انجام دینے والے افراد اور معاون عملے کو روزانہ جامع طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ او پی ڈی میں یومیہ اوسطاً 2,500 مریضوں کا معائینہ کیا جا رہا ہے۔