نئی دہلی //اعلی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف نوجوان ڈاکٹروں کو اسوقت راحت نصیب ہوئی جب مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ میں جمع کئے گئے حلف نامہ میں کہا کہ طلبہ کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے این ای ای ٹی(ایس ایس ) کے نصاب میں کی گئی تبدیلیوں کو سال 2022-23سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل مرکزی سرکار نے پہلے یہ عندیہ دیا تھا کہ سال 2021-22کیلئے ہونے والے امتحانات کو ملتوی کیا جاسکتا ہے کیونکہ داخلوں کے پورے عمل کو نئے سرے سے پھر شروع کرنا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ41پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں اور دیگر طلبہ کی درخواست پر شنوائی کر رہی تھی کیونکہ سرکار نے 12 اور13نومبر کو ہونے والے امتحانات کے نصاب میں تبدیلی کی نوٹیفکیشن 23جولائی کو جاری کی تھی ۔
چیف جسٹس ڈی وے چندرچور، وکرم ناتھ اور بی وی ناگررنتھنہ پر مشتمل بینچ ایڈیشنل سولیسٹر جنرل اشوریہ بھٹی کے بیان کو قلب بند کررہا تھا اور ان طلبہ کی شکایت کا ازالہ کررہا تھا، جنہوں نے این ای ای ٹی امتحانات کے نصاب میں آخری لمحہ پر تبدیلی کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔اشوریہ بھاٹیہ نے کہا کہ طلبہ و طالبات کے مفاد میں، جنہوں نے پرانی اسکیم کے تحت تیاری کی ہے، سرکار کی دو مشاورتی باڈیز( نیشنل میڈیکل کمیشن) اور نیشنل بورد آف ایکزیمیشن(این بی ای) نے نئے سکیم پر پھر سے نظر ثانی کی ہے اور این ای ای ٹی (ایس ایس ) کے نصاب میں تبدیلی سال 2022سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ امتحانات سال 2021کا امتحانات سال 2020کے قوائد و ضوابط کے تحت لیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی سرکار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ این ایم سی اور این بی ای کے ساتھ مشاورت کے بعد لئے گئے طلبہ و طالبات کے انجمن کی جانب سے سے ظاہر کئے گئے خدشات کو دیکھتے ہوئے نصاب میں تبدیلیاں سال 2022-23میں لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ شنوائی کے دوران ایڈیشنل سولیسٹر جنرل اشوریہ بھٹی نے کہا کہ عدالت نے منگل کو ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ نجی میڈیکل کالجوں کی نشستوں کو بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بھٹی نے کہا کہ میں عدالت کو بتانا چاہتی ہوں کہ 805نشستیں پچھلے سال خالی تھی جن میں 561نجی میڈیکل کالجوں اور 241سیٹیں سرکاری کالجوں میں خالی پڑیں ہیں۔ بھٹی نے اشارہ دیا کہ حکام کو امتحانات جو کہ 12اور 13نومبر کو مکمل ہونے تھے ، کا انعقاد کرنے میں مزید چند ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔