بلال فرقانی
سری نگر// الٹرا سائیکلنگ کے کھیل میں ایک نیا باب لکھا جائے گا کیونکہ ایشیا کی سب سے طویل سائیکل دوڑ، کشمیر سے کنیا کماری تک، آج کو جھنڈی دکھا کر روانہ ہوگی۔الٹرا سائیکلنگ پروجیکٹ کے ڈائریکٹر جتیندر نائک نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا ’’یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا میں اپنی نوعیت کی پہلی دوڈ ہے، جو کشمیر سے کنیا کماری تک 3655 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔‘‘نائک نے کہا کہ اس دوڑ کو ورلڈ الٹراسائکلنگ ایسوسی ایشن نے ایشین الٹراسائکلنگ چیمپئن شپ کا درجہ دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دوڑ کو مکمل کرنے والے سائیکلسٹ خود بخوعالمی ایونٹ کے لیے کوالیفائی کر لیں گے۔نائک نے کہا کہ الٹرا سائیکلنگ ریس منعقد کرنے کا خیال اس وقت آیا جب ہندوستان کے کئی سائیکل سواروں نے مغرب اور مشرق بعید میں منعقد ہونے والے ان مقابلوں میں شرکت کی۔انہوں نے مزید کہا’’مغرب میں ہونے والی دوڈوں میں حصہ لینا بہت مہنگا معاملہ ہے، لہذا خیال یہ تھا کہ ہندوستان کے سائیکل سواروں کو الٹرا سائیکلنگ کے ایونٹس میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے جو سستی ہوں اور بیرون ملک دوڑوںمیں حصہ لینے کے لیے کی لاگت کا دسواں حصہ خرچ آئے‘ ۔نائک نے کہا کہ 12 تنہا سائیکل سوار، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے، اس دور میں شرکت کر رہی ہیں جبکہ چار کھلاڑیوں کی چار ٹیمیں ریس میں حصہ لیں گی۔ریس ڈائریکٹر ووئٹ والونے کہا کہ راستے میں 12 ٹائم اسٹیشن ہیں۔انکا کہنا تھا’’ہر اسٹیشن 200 سے 400 کلومیٹر کے درمیان رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سائیکل سواروں کو جی پی ایس آلات کے ذریعے ٹریک کیا جاتا ہے۔