بیروت// شام میں پیر کے روز الغوطہ الشرقیہ کے علاقے پر بشار کی فوج کی جانب سے ہونے والے فضائی حملوں اور گولہ باری کے نتیجے میں 100 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 325 کے قریب زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں تقریبا 20 بچّے شامل ہیں۔شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق دمشق کے نزدیک محصور اس علاقے میں گزشتہ تین برسوں میں ایک دن کے اندر ہلاکتوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2013ءسے محصور الغوطہ الشرقیہ میں تقریبا 4 لاکھ افراد رہتے ہیں۔شام کے بحران کے حوالے سے اقوام متحدہ کے علاقائی رابطہ کار بینوس مومیٹز کے مطابق "الغوطہ الشرقیہ میں شہریوں کی انسانی صورت حال کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔ مقامی آبادی کے اکثر لوگوں کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ زیر زمین پناہ گاہوں میں ٹھہرے رہیں۔ شام میں کشیدگی میں شدت اس وقت آئی جب حکومتی فورسز نے کردوں کے زیر انتظام شمالی علاقے افرین میں داخل ہونے کی کوشش کی، جہاں کئی ماہ سے ترکی کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں۔غوطہ کے مشرقی علاقے میں گزشتہ روز حملوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں فضائی کارروائی کے ساتھ ساتھ راکٹ فائر کیے گئے جبکہ سیکڑوں اٹلری شیل بھی فائر کیے گئے۔شام میں کام کرنے والی برطانوی انسانی حقوق کی نگراں تنظیم کا کہنا تھا کہ ہیموریائی میں فضائی کارروائی سے 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سابقہ میں بمباری سے 9 افراد ہلاک ہوئے۔بعد ازاں مذکورہ علاقے میں شامی فورسز کی مزید بمباری سے درجنوں شہری ہلاک ہوگئے۔شامی فورسز کے جنگی طیاروں نے علاقے میں پروازوں کے آغاز کے ساتھ ہی شہریوں میں خوف و ہراس دیکھا گیا اور لوگ محفوظ پناہ کی تلاش کرتے نظر آئے، اس حوالے سے ایک شہری کا کہنا تھا کہ غوطہ کی قسمت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، ہمارے پاس پناہ کے لیے خدا کے سوا کسی اور کا سہارہ نہیں، کیونکہ کوئی متبادل موجود نہیں‘۔اس کے علاوہ دومہ کے علاقے میں بھی شیلنگ کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجے میں متعدد بچے زخمی ہوئے۔برطانوی نگراں ادارے اور شام کے روزنامہ الوطن کا کہنا تھا کہ غوطہ کے علاقے سے جنگجوو¿ں کو نکالنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔تاہم نگراں ادارے کا ماننا ہے کہ علاقے میں اس قدر بڑی فوجی کارروائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومت مذاکرات کی بجائے زمینی حملہ کرنا چاہتی ہے۔خیال رہے کہ رواں ہفتے کے ا?غاز میں شام کی سرکاری نیوز ایجنسی ثنا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ دمشق میں جنگجوو¿ں کی جانب سے فائر کیے گئے درجنوں راکٹس کی زد میں ا?کر ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ رواں ماہ دمشق پر ہونے والے جنگجوو¿ں کے حملے میں 20 سے زائد شہری ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔