سرینگر//حریت کانفرنس(ع)نے اِن افواہوں کو غلط اورگمراہ کن قراردیا ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ میرواعظ مولوی عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کے کچھ رہنما نئی دہلی میں مرکزسے اپنی پالیسیوں کی معافی اور معذرت طلب کرتے ہیں۔ایک بیان میں حریت نے لوگوں کو ان شرپسندوں اور ایجنسیوں سے ہوشیاررہنے کی تلقین کی جومیڈیا کے توسط سے ایسی غلط اور گمراہ کن افواہیں پھیلا نے میں مصروف ہیں ۔بیان میں حریت نے اپنے موقف کااعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا بھارت پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین ایسے پرامن مذاکرات کے ذریعے حل نکالاجاسکتا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ بیان میں یہ بات زور دیکر کہی گئی کہ عوامی امنگوں اور جذبات کی ترجمانی اور جموںوکشمیر کے حدود میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں حریت چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے مسلسل غیر قانونی اور جابرانہ طور پر نظر بند رکھا گیا ہے جو انصاف پسند اقوام و ممالک اوربین الاقوامی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔