اسلام صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور سماجی نظام پیش کرتا ہے۔ یہ عدل، رحم، دیانت، ذمہ داری، ضبط ِ نفس، ہمدردی، انسانی وقار کے احترام اور خدا کے سامنے جواب دہی کی تعلیم دیتا ہے۔جو معاشرہ ان اقدار کے مطابق زندگی گزارے ، وہ یقیناً ایسے معاشرے سے زیادہ پُرامن اور باوقارہوگا، جو لالچ، غرور، نفرت اور اخلاقی بے حسی پر قائم ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوجاتا ہےکہ اگر اسلام کا اخلاقی وِژَن اتنا بلند ہے تو پھرہمارا مسلم معاشرہ کیوں بدعنوانی، ناانصافی، تشدد، تقسیم، بداعتمادی اور بے چینی کا شکار ہے؟ شائداس کا جواب اس بات میں پوشیدہ ہو، جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔اول تو ہم اسلامی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتے اور اگر سمجھ بھی پاتے ،تو اُس پر عمل نہیں کرتےہیں۔ہم نے دین کو محض نماز، روزہ یا ظاہری دینداری تک محدود رکھا ہے،جبکہ اسلام عبادت کو کردار کے ساتھ جوڑتا ہے۔
ذرا غور کریں، اگر نماز انسان میں اخلاقی ضبط پیدا نہ کرتی ، اگر روزہ دل میں ہمدردی نہیں جگاتی ، اگر زکوٰۃ اور صدقہ خود غرضی کو کم نہیں کرتی اور اگر دینی علم انسان کے نفس کو قابو میں نہ لاتی تو پھریہی کہا جاسکتا ہے کہ دین ہماری سمجھ سے باہر ہی رہا ہے۔آج بھی ہمارے معاشرے میں عدم مساوات، بداعتمادی اور معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے عدم استحکام پایا جارہا ہے،جو دراصل ہمارے اخلاقی زوال کی نشاندہی کررہا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بے چینی ،پریشانی ، بد خوئی ،گمراہی اور دین سے دوری، بڑی حد تک اُنہی اخلاقی خرابیوں سے ہی پیدا ہو رہی ہے، جن سے اسلام بار بار خبردار کرتاہے کہ ناانصافی، زیادتی، بے ایمانی، ظلم، تکبُّر،گھمنڈ، غصہ، معاشی استحصال اور خود غرضی کی پرستش سے دور رہو۔ظاہر ہے کہ جب حکمران بغیرِ انصاف کے حکومت کریں، جب دولت ہمدردی کے بغیر گردش کرے، جب شناخت کو دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کیا جائے اور جب طاقت جواب دہی سے آزاد ہو جائے، تو بے چینی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اسلام نے ان بُرائیوں و خرابیوںکی پہلے ہی نشاندہی کر دی تھی۔
ایک معاشرہ مسجدیں بنا سکتا ہے، مذہبی اجتماعات کر سکتا ہے، مقدس مواقع مناتا ہے، لیکن اگر رشوت عام ہو جائے، قابلیت کو نظر انداز کر دیا جائے اور عوامی عہدے کو ذاتی جائیداد سمجھ لیا جائے تو سماجی غصہ لازماً جمع ہوگا۔ نوجوان بداعتماد ہو جائیں گے۔ دیانت دار لوگ خود کو ہارا ہوا محسوس کریں گے۔ غریب یہ سمجھیں گے کہ انہیںبے سہارا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسا معاشرہ ظاہری طور پر مذہبی نظر آ سکتا ہے، مگر اس کا حقیقی نظام اسلامی عدل پر نہیں بلکہ اخلاقی تضاد پر چل رہا ہوگا۔یہی بات خاندانی زندگی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ اسلام والدین کے احترام، بچوں کے حقوق، میاں بیوی کے باہمی فرائض اور گھر کے اندر رحم و محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن جہاں گھروں پر ظلم، اَنّا، خاموش سرد مہری، غفلت یا جبر کا راج ہو، وہاں بے چینی سب سے پہلے گھر کی چار دیواری میں جنم لیتی ہے اور پھر پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔ بے شک اسلام ہر انسان کے وقار کا احترام سکھاتا ہے اور نسل، قبیلے اور نسب کی بنیاد پر برتری کو رد کرتا ہے۔ لیکن آج بھی ہمارے معاشرے میں تعصب مختلف جدید اور روایتی شکلوں میں زندہ ہے۔ لوگ فرقے، نسل، طبقے، قومیت یا زبان کی بنیاد پر اپنے اپنے خانے بنا لیتے ہیں، پھر حیران ہوتے ہیں کہ اعتماد کیوں ختم ہو گیا۔ اسلام صرف فرد کی نیکی کی بات نہیں کرتا بلکہ اجتماعی نظم کی بھی بات کرتا ہے۔ وہ معاملات میں انصاف، تجارت میں دیانت، جان کی حفاظت، کمزوروں کی نگہداشت، امانتوں کی ادائیگی اور تنازعے میں ضبط و توازن کی تعلیم دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کا سماجی اثر اُسی وقت حقیقی بنے گا ،جب اس کی اقدار مسجد سے بازار تک، خطبے سے اسکول تک، گھر سے عدالت تک اور انفرادی ضمیر سے اجتماعی اداروں تک پہنچیں گی اوراگر یہ کیفیت اجتماعی سطح پر پیدا ہو جائے تو اس کے سماجی اثرات واقعی نہایت گہرے ہوں گے۔